تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 141 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 141

۱۴۱ گی۔میں نے اس احمد می دوست کو خط لکھا کہ میری طرف سے کرنل صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ جماعت پر سر والے واقعات دوبارہ آنے والے ہیں۔آپ ابھی سے تیاری کر لیں اب جبکہ میں نے اس بارہ ہیں کا رروائی کی ہے تو آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ خواہ مخواہ فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔جب میں دوبارہ مری گیا تو میں نے اس احمدی دوست سے پوچھا کہ کیا میرا خط آپ کو مل گیا تھا اور آپ نے کرنل صاحب کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا۔انہوں نے کہا ہاں میں نے پیغام دے دیا تھا اور انہوں نے بتایا تھا کہ اب میری تسلی ہو گئی ہے شروع میں ہیں ہی سمجھتا تھا کہ یہ معمولی بات ہے۔لیکن اب جبکہ پیغامی اور غیر احمدی دونوں فتنہ پردازوں کے ساتھ مل گئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ عقلمندی اور کوئی نہیں تھی کہ آپ نے وقت پر اس فتنہ کو بھانپ لیا اور شرارت کو بے نقاب کر دیا۔عرض خدا تعالیٰ ہر فتنہ اور مصیبت کے وقت جماعت کی خود حفاظت فرماتا ہے۔چنانچہ فتنہ تو اب کھڑا کیا گیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے 192 ء میں ہی کوئٹہ کے مقام پر مجھے بتا دیا تھا کہ بعض ایسے لوگوں کی طرف سے فتنہ اُٹھایا جانے والا ہے جنکی رشتہ داری میری بیویوں کی طرف سے ہے چنا نچہ دیکھ لو عبد الوہاب میری ایک بیوی کی طرف سے رشتہ دار ہے۔میری اس سے جیدی رشتہ داری نہیں۔پھر میری ایک خواب جنوری ۹۳۵لہ میں الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اس میں بتایا گیا تھا کہ میں کسی پہاڑ پر ہوں کہ خلافت کے خلاف جماعت میں ایک فتنہ ظاہر ہوا۔اس وقت میں مری میں ہی تھا پھر اس خواب میں میں نے سیالکوٹ کے لوگوں کو دیکھا جو موقع کی نزاکت سمجھ کر جمع ہو گئے تھے۔اور ان کے ساتھ کچھ ان لوگوں کو بھی دیکھا جو باغی تھے۔یہ خواب بھی بڑے شاندار طور پر پوری ہوئی چنانچہ اللہ رکھا سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے۔جب میں نے اس کے متعلق الفضل میں مضمون لکھا تو خود اس کے حقیقی بھائیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید اس پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہ پیغامی ہے۔اس نے ہمیں جو خطوط لکھے ہیں وہ پیغا میوں کے پستہ سے لکھے ہیں میں ہما را اس سے کوئی تعلق نہیں ہم خلافت سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔اب دیکھ لو ۱۹۳۳ء میں مجھے ہمارا اس فتنہ کا خیال کیسے آ سکتا تھا۔پھر شاہ والی خواب بھی مجھے یاد نہیں تھی بنارہ میں میں سب