تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 133
١٣٣ " المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مضمون کی تحریہ کی تاریخ کا ، لکھی تھی۔لیکن مضمون چھپا ۲۹ کے الفضل میں تھا۔اور لاہور بھی ۲۹ کو پہنچ گیا تھا۔آپ نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ گویا معافی نامہ اس مضمون کے چھینے سے پہلے کا ہے۔اپنے خط پر بھی عام کی تاریخ ڈال دی اور یہ بھول گئے کہ میں وقت آپ اس خط کو ڈاک خانہ میں ریبری کروائیں گے و ڈاکخانہ بھی کوئی تاریخ ڈالے گا۔چنانچہ آپ کے رہبری خط کا لفافہ ہمارے پاس موجو د ہے۔اور اس پر ڈاکٹیا نہ نے لکھا ہے کہ ۳۰ر نومبر کو یہ خط ربوہ سے ڈالا گیا۔ہمارے آدمیوں کی رپورٹ سے یہ ثابت ہے کہ آپ ۲۹ نومبر کو لاہور سے ربوہ آگئے تھے۔اور ۳۰ کی صبح کو لاری نے ذریعہ کہیں باہر گئے تھے پس آپ نے یہ خط ۳۰ تاریخ کو ربوہ سے روانہ کیا۔اور ۲۷ تاریخ اس پر محض اس لیے ڈالی ہے۔تاکہ جماعت احمدیہ یہ دھوکہ کھائے۔کہ اخراج از جماعت سے پہلے ہی آپ نے معافی مانگ لی تھی۔مگر پھر بھی آپ کو معاف نہیں کیا گیا۔تب ہے کہ ایک راستباز۔انسان کا بیٹا ہوتے ہوئے آپ عبد اللہ بن سبا کے طریق پر چل رہے ہیں ہ۱ یہ شکایت بھی کہ الفضل نے آپ کا مضمون نہیں چھاپا تھا۔حالانکہ کو ہستان نے چھاپے دیا اپنی ذات میں ایک دجل ہے۔آپ کا یہ مضمون پہلے چار نومبر کے کوہستان میں چھپا تھا پھر ۳ ار نومبر کے کو بہتان ہیں۔اور الفضل کو آپ کا مضمون 19 نومبر کو پہنچا تھا۔الفضل کو کیا ضرورت پیش آئی تھی۔کہ وہ مضمون جو پہلی دفعہ پندرہ دن پہلے اور دوسری دفرسات دن پہلے آپ سلسلہ کے ایک شدید دشمن اخبار میں چھپوا چکے تھے اس کو چھاپتا جبکہ الفضل کا اس معاملہ سے تعلق بھی کوئی نہیں۔یہ معاملہ یا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے تعلق رکھتا ممھا یا ہمارے دفتر سے۔مگر آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو یہ مضمون نہیں بھجوایا بلکہ کو ہستان کو بھجوایا اور تیسری دفعہ الفضل کو بھجوایا پھر بھی حضرت خلیفہ ایسیح الثانی یدہ اللہ تعالیٰ کو ہیں مجھ ایا جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ کی نیت صرف پروپیگنڈا تھی۔خلافت کے حصول کی خواہش نے آپ کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔آپ نے موجودہ خط میں لکھا ہے کہ کوہستان میں جو سیڈ نگ چھپا ہے وہ میرا نہیں اور آپ ایسی حرکات کر رہے ہیں جو کوئی بے وقوف سے بے وقوت انسان بھی نہیں کر سکتا تھا وہ ہیٹنگ یہ مقامہ قادیانی خلافت سے دستبرداری اس ہیڈ نگ کو کوہستان کے ایڈیٹر