تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 130
۱۳۰ حضرت مصلح موعود کی دلی تمنا تھی کہ کسی طرح میاں | اخراج از جماعت کا مفصل علمان عبدالمان صاحب بی رنگ میں معنی نامه جیمیں تو اس پر غور کیا جائے مگر ڈھائی تین ماہ کی مہلت کے باوجود جب اُن کی روش میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو حضور نے احمدی جماعتوں اور صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی ان قرار دادوں کو منظور فرما لیا ہو فتنہ میں ملوث افراد کو جماعت میں شامل تصور نہ کرنے سے متعلق تھیں بعد انہاں ۲۹ نومبر ۱۹۵۶ء کے الفضل میں مندرجہ ذیل مفصل اعلان جاری فرمایا : مولوی عبدالمنان متعلق اخراج از جماعت احمدیہ کا اعلان مولوی عبد المنان جب امریکہ میں تھے تو اُن کے بعض ساتھیوں نے یہ کہا تھا خلیفہ ثانی کی دقات کے بعد وہ خلیفہ ہوں گے۔اور پھر پیغام صلح نے ان کی اور ان کے ساتھیوں کی تائید شروع کردی تھی۔جس سے پتہ لگتا تھا کہ پیغامیوں کے ساتھ ان کی پارٹی کا جوڑ ہے۔اور پیغام صلح نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا تھا کہ میں نے نعوذ باللہ حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی مہتک کی ہے میں نے مولوی عبد المنان کے متعلق کوئی قدم اس لیے نہ اٹھایا کہ وہ باہر ہیں جب واپس آئیں اور ان کو ان باتوں کی تردید کا کا موقعہ ملے۔تو پھر ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔بیچنا نچہ جب وہ واپس آئے۔تو انہوں نے ایک مبہم سامعانی نام لکھ کر بھجوا دیا۔میں نے وہ میاں بشیر احمد صاحب کو دیا کہ وہ اس پر جرح کریں کریں مگر میاں بشیر احمد صاحب کے خطوں کے جواب سے انہوں نے گریہ کرنا شروع کیا۔اس کے بعد ایک مضمون جو ظاہر معافی نامہ تھا لیکن اس میں ، پیغام صلح" کے اس الزام کی کوئی تمدید نہیں تھی کہ خلیفہ ثانی یا جماعت احمدیہ نے حضرت خلیفہ اول کی گستاخی کی ہے۔انہوں نے اپنام صلح میں شائع کرایا۔یہ بیان ایسا تھا کہ جماعت کے بہت سے آدمیوں نے لکھا کہ اس بیان کا ہر فقرہ وہ ہے جس کے نیچے ہر پیغامی دستخط کر سکتا ہے۔اس لیے اس بیان کو جماعت نے قبول نہ کیا۔اس دوران میں چوہدری محمد حسین میجر ایڈووکیٹ نے ایک مضمون پیغام صلح میں لکھا جس میں یہ بھی لکھا گیا۔کہ مرزا محمود کی خلافت کی مخالفت کرنے والوں کو دلیری اور استقلال -