تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 127
۱۲۷ کے ایمان و اخلاص کی پوزیشن کو صاف کرنے کی بجائے مزید پیچیدگی پیدا کرتا ہے اور بدگمانی کا راستہ کھولتا ہے۔میں نے اپنے خط محررہ پر ۲۹ میں آپ کی جملہ سابقہ تحریرات کو سامنے رکھ کر چند معتین باتیں پیش کی تھیں۔اور آپ کو بتایا تھا کہ آپ پر ان ان امور میں واضح تردیدی اعلان کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مگر آپ نے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی بجائے دفع الوقتی کے رنگ میں مجبل باتیں لکھ دی ہیں۔اور نہ تو کسی بات کا معین صورت میں جوابت دیا ہے۔اور نہ حسب تحریر کوئی تردیدی اعلان شائع کیا ہے۔“ علاوہ ازیں اس سخط میں پھر اُن تمام امور کو دوہرا یا گیا کہ اب بھی اگر مولوی صا ان کی تردید کر دیں تو کافی ہو جائے۔چنانچہ خط کے آخری الفاظ حسب ذیل ہیں۔ائیں اس بات کے لکھنے سے بھی رُک نہیں سکتا۔کیونکہ جماعتی مفاد اس کا متقاضی ہے کہ ہم آپ کے معاملہ میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔اگر آپ نے فوری طور پر صحیح جواب نہ دیا۔اور ایمان اور اخلاص کے طریق پر مطلوبہ تردیدی اعلانات نہ کیے تو ہمیں مجبوراً یہ تحریر " الفضل ، میں شائع کرنی پڑے گی۔اور جو منٹورے جماعت کی طرف سے آرہے ہیں اُن کو قبول کر کے آپ کے متعلق کوئی اعلان کرنا پڑے گا۔کیونکہ آپ کے موجودہ رویہ کو دیکھتے ہوئے جماعت کو تسلی دلانے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس باقی نہیں رہا۔اس دوران میں پھر مولوی صاحب اور نظارت امور عامہ کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی۔جس سے مولوی صاحب کے حق میں کوئی مفید بات نہیں نکلتی۔اس ساری خط وکتابت سے یہ اثر ہے کہ مولوی صاحب نے بحث کے رنگ میں خطوط کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔اور معین اور واضح رنگ میں عائد شدہ الزامات کی تردید کی طرف توجہ بھی نہیں دی۔۱۴ - "کومستان را ولپنڈ ی مورخه بهر نومبر اور کوہستان لا ہور مورخہ ۱۳ نومبر میں قادیانی خلافت سے دستبرداری کے عنوان سے مولوی عبد المنان صاحب کا ایک خط شائع ہوا ہے۔جیس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔اور میں پر مرکز کی طرف سے ایک سرکر لیٹ بھی جماعتوں کو بھیجا گیا ہے۔