تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 126 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 126

۱۲۶ کیا آپ کا دل اس بات پر ستی پاتا ہے کہ آپ کا یہ رویہ کہ سترہ دن سے اختبارتا کی تلاش کر رہا ہوں بیچے ایمان کی علامت ہے۔آپ کا ایک نوٹ مورخہ ۲۷ ایڈیٹر صاحب الفضل " کے نام لکھا ہوا خاکسار کو بذریعہ رجسٹری ملا۔اس سخط میں آپ نے عام اصول کے رنگ میں تو لکھا کہ یک لفافات حقہ کو مانتا ہوں۔مگر اس بات کی صراحت نہیں کی کہ میں حضرت مرزا البشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت پر ایمان لانا اور اسے خلافت حقہ یقین کرتا ہوں۔معلوم نہیں کہ آپ نے جہاں خلافت حقہ لکھتا ہے۔اس سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خلافت مراد لی ہے یا کہ اپنی متوقع خلافت کے متعلق اشارہ کر دیا ہے۔“ ا یکم اکتوبر کو مولوی عبد المنان صاحب نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کمندت میں ایک اور خط لکھا کہ حضور کے ارشاد کے مطابق اب تک باہر کے مندرجہ ذیل اخبارات دیکھ چکا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات کی فہرست دیدی ہے اور لیں۔میرے نزدیک یہ خط محض ایک مذاق نظر آتا ہے۔کیونکہ ان اخبارات میں بھی جو کچھ تھا۔اس کی تردید نہ بذریعہ اخبارات اور نہ بذریعہ خط انہوں نے کی۔۱۲ - ۱۲ اکتوبر کو مولوی صاحب نے ناظر صاحب امور عامہ کے خط محرره ۲۹ ستمبر کا جواب لکھا۔لیکن اس میں بھی معین اور واضح رنگ میں کسی اہم پہلو کا جواب انہوں نے نہیں دیا بلکہ الزامی اور منطقیانہ رنگ میں بات کو ٹالنے کی کوشش کی ہے۔اور اصل مقصد یعنی الزامات کی تردید وغیرہ کی طرف نہیں آئے۔چنانچہ اس کے جواب میں ۳ اکتوبر کو ناظر صاحب امور عامہ نے مولوی صاحب کے نام ایک اور خط لکھا جس کے بعض اقتباسات حسب ذیل ہیں :- " میرے رجسٹر ڈ خط محرره په ۲۹ کے جواب میں آپ کا خط محررہ پیزا ۲ دستی موصول ہوا۔مجھے افسوس ہے کہ آپ نے صاف اور سیدھے مؤمنانہ طریق کو چھوڑ کر ایسا دفع الوقتی کا رنگ اختیار کیا ہے جو معاملہ کو سلجھانے اور آپ