تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 119
19 کریمی شیخ صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ آپ کو میرا خط مل گیا ہو گا کہ آپ کو منان سے ملنے کی اجازت ہے۔اب میں۔ایک غلط فہمی دور کر دینا چاہتا ہوں۔چونکہ منان صاحب ایک مہینہ سے زائد ہوا کہ امریکہ سے واپس آچکے ہیں اور اس عرصہ میں میاں بشیر احمد صاحب کیونکہ ان کو لکھ چکے ہیں کہ کون کونسے امور کی صفائی انکے ذمہ ہے گر باوجود اس کے انہوں نے صفائی نہیں کی اور انجمن کے رہبرات اس پر گواہ ہیں که وہ سلسلہ کے جس جس کام پر مقرر ہوئے ہیں اس کی بہت سی رقوم ابھی تک قابل تشریح ہیں اور بہت سی رقوم پر میاں عبد المنان کے دستخط اب تک موجود ہیں اور میاں غلام غوث صاحب جھونی اور چوہدری انور حسین صاحب شیخو پورہ کی معین گواہیاں موجود رہیں کہ انہوں نے خلافت کی امید داری کا اظہار کر دیا اور یہ کہا کہ خلیفہ ثانی ناصر احمد کو اپنا ولی عہد بنا رہے ہیں۔ان حالات کے بعد وہ تو یہ بھی کہیں اور ہمیں ان کی تو بہ کے الفاظ سے اتفاق بھی ہو تو بھی انہیں اس طرح ہر گنہ نہیں معات کیا جا سکتا کہ آئندہ وہ کسی جماعت کے نمبر ہو سکیں یا جماعت کے کسی عہدہ پر فائز ہوسکیں اس وقت کہ عشاء کے بعد کا وقت ہے میجر عارف الزمان لاہور سے آئے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ میاں منان با قاعدہ مولوی صدر دین سے مل رہے ہیں اور ایک دن تو ملاقات رات کے دو بجے تک رہی اور لاہور کے کسی وکیل فضل علی غنی اور امیر احمد قدوائی سے قانونی مشورے لے رہے ہیں غالباً یہ امیر احمد قدوائی رہی ہے جس کی آپ نے ایک دفعہ میرے ساتھ دعوت تھی کیونکہ وہ بھی وکیل اور سوال کہلاتا تھا۔یہ مال میری اور ر کی رائے کو اور بھی کیا کرتے ہیں۔رجبرات اور میاں عبدالمنان کے دستخط ہمارے پاس موجود ہیں شیخ محمد احمد صاحب گر آپ کے پائے کے کیل تو نہیں مگر بڑے پائے کے وکیل ہیں انہوں نے سب کا غذات دیکھتے ہیں اور یہ قطعی رائے دی ہے کہ گو بعض معاملات میں انجمن کے بعض افسروں کی سہل انگاری کی وجہ سے وہ فوجداری مقدمہ سے تو بچ گئے ہیں مگر عبرات میں ان کے اپنے دستخطوں سے اتنا مواد موجود ہے کہ دنیا کے سامنے ان کی امانت کو مخدوش کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہے بعض واقعات میں کل کے خطہ میں لکھ چکا ہوں۔بہر حال میں نے آپ کو اس لیے •