تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 118 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 118

دوست جو اس کی خلافت کا پراپیگنڈا کرتے رہے ہیں اس سے قطع تعلق کرتے اور وہ ان سے قطع تعلقی پسند نہیں کرتا تھا اس لیے اُس نے ایسا جواب دیا ہے پیغام صلح نے بڑے شوق سے شائع کردیا اگر وہ بیان خلافت ثانیہ کی تائید میں ہوتا تو پیغام صلح اسے کیوں شائع کرتا ؟ اس نے بھلا گزشتہ ۴۲ سال میں کبھی میری تائید کی ہے۔انہوں نے سمجھا کہ اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ ہمارے ہی خیالات کا آئینہ دار ہے اس لیے اسے شائع کرنے میں کیا حرج ہے ؛ چنانچہ جماعت کے بڑے لوگ جو سمجھدار ہیں وہ تو الگ رہے مجھے کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے لکھا کہ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔لیکن ایک دن میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کر مجھے پتہ لگا کہ پیغام مصلح میں میاں عبد المنان کا کوئی پیغام چھپا ہے تو میں نے ایک دوست سے کہا میاں ذرا ایک پرچہ لانا وہ ایک پرچہ لے آیا ئیں نے وہ بیان پڑھا اور اسے پڑھتے ہی کہا کہ کوئی پنجا می ایسا نہیں جو یہ بات نہ کہ دے یہ تردید تو نہیں اور نہ ہی میاں عبدالمنان نے یہ بیان شائع کر کے اپنی بریت کی ہے اس پر ہر ایک پیغامی دستخط کر سکتا ہے کیونکہ اس کا سر فقرہ پیچیدہ طور پہ لکھا ہوا ہے اور اسے پڑھ کر ہر پیغامی اور خلافت کا مخالف یہ کہے گا کہ میرا بھی یہی خیال ہے راستے اتمام حجت ) حضرت علی موجود جو کو دل سے چاہتے تھے کہ مولوی عبدالمنان صاحب کسی چونکہ اتمام حجت طرح اس فتنہ سے بچ جائیں اس لیے آپ نے اتمام محبت کی کوئی کسر نہیں چھوڑی حضور نے نظارت امور عامہ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ذریعہ ان کو بار بار ان امور کی طرف متوجہ کیا جن کی واضح تردید ہونی ضروری ہے ایک صورت حضور نے یہ اختیار فرمائی کہ شیخ بیشر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کو اجازت دی کہ ان سے ملاقات کر کے اصلاح احوال کی کوشش کریں اس سلسلہ میں حضور کا ایک اہم مکتوب درج ذیل کیا جاتا ہے۔له الفضل ۱۲۴ اپریل ۱۹۵۷ و مت