تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 115
کے علاوہ اس سراسر افتراء اور جھوٹ کو ہوا دینے کا موجب یہ امر بھی ہوا ہے کہ کہا گیا ہے کہ آئندہ خلافت کے لیے ایک امیدوار اور سحق میں بھی ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے میرا نام لیا۔ہرگز میرے حقیقی واقف اور دوست نہیں۔اگر وہ مجھ سے پورے طور پر آگاہ ہوتے اور میری کمزوریوں، کوتاہیوں، غلطیوں ، بے عملیوں ، بے خبریوں ،غفلتوں اور جہالتوں پر ان کی نظر ہوتی تو وہ ہر گزنہ میرا نام نہ لیتے۔میں تو ایک حقیر اور کمزور انسان ہوں۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق بتجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لیے ہی کیوں نہ ہو جتما نا جائز ہے۔خلافت حقہ اپنے ساتھ بے انتہا برکتیں رکھتی ہے۔اللہ تعالی کا ہاتھہ اس کے اوپر ہوتا ہے وہ جماعتی استحاد و ائتلات کے قیام اور الہی نور کے اظہار کا ذریعہ ہے۔لیکن جو خلافت منصوبوں، سازشوں ، چالبازیوں اور ظاہر یا مخفی تدبیروں سے قائم کی جائے وہ اپنی ساری برکتیں کھو دیتی ہے۔اسے اقتدار اور حکورت کا نام تو دیا جاسکتا ہے اسے یزیدی خلافت تو کہا جاسکتا ہے لیکن وہ خلافت راشدہ نہیں ہو سکتی۔نہ اس کی برکات۔اسے حصہ ملتا ہے۔پس میں صاف صاف اور واشگاف الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ایسی کسی سازش اور منصوبہ بندی سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔نہ میں خلافت کا متمنی ہوں اور نہ اس کے لیے میں نے کسی فرد ، پارٹی یا جماعت کے ساتھ کوئی سازش اور منصوبہ بنا یا۔نہ اس عرض کے لیے کسی پارٹی تر تشکیل دی اور نہ ایسی باتوں کو جائز کھتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ اس صاف اور واضح بیان کے بعد اب کسی خدا ترس انسان کے دل میں میں کی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں جس کا دل انصاف کر سکتا اور جن کی عقل سوپا سکتی ہے۔یہ غلط فہمی نہیں رہے گی کہ موجودہ جھگڑے کیسا تھ میرا بھی کوئی تعلق ہے۔میں اپنے اس یقین کا اظہار بھی ضرور می کجھتا ہوں کہ الہ تعالی حضرت مسیح موجود کے نام کو اس رونہ تک جودنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور آپ کی دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔اور یہ کہ آپ اپنے تمام دعا دی میں پہنچے تھے۔آخر میں میں اپنے مولیٰ ہی کو بچارہتا ہوں کہ وہ ہم پر اپنا جسم نازل کرے۔بہارے گناہوں کو