تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 100
☑ افتراء کا یہ کھیل آپ ہی ختم ہو جائے گا۔مگر افسوس حق و صداقت کے اس خاموش احتجاج کا نتیجہ یہ بر آمد ہو بر ہا ہے کہ نہایت دلیری کے ساتھ اب مزید غلط بیانیوں کو سہارا لیا جانے لگا ہے جس کی تازہ ترین مثال وہ خبر ہے جو اس نے جماعت احمدیہ میں بنگال اور پنجابی کشمکش پیدا کر نے اور منافرت پھیلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ، اکتوبر شاہ کی اشاعت میں وصنع کی ہے۔د مشرقی پاکستان کے قادیانیوں نے بھی مرزا محمود کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ؟ یہ مضحکہ خیز سرخی جھانے کے بعد اس اخبار نے خبر تراشی کے کمالات دکھاتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ در بر مین بڑیہ کے قادیانی مبلغ مولوی ظل الرحمن کو ان کی تیس سالہ ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔مرزا محمود نے وہاں عام بغاوت کے پیش نظر اپنے خاص نمائندے مولوی جلال الدین شمس اور مولوی عبدالرحیم درو کودهاں حالات معلوم کرنے کی غرض سے ایک وسیع دورے پر بھجوایا تھا۔اور ان کی واپسی پر اب اپنے ربوہ کے خاص مبلغین مولوی محمد اجمل شاہد اور ماشہ محمد عمر اور مولوی رحمت علی کو اپنے خاص مشن کے لیے تقریر کیا ہے۔لطف یہ ہے کہ یہ تینوں آدمی مشرقی پاکستان کی اہم زبان بنگلہ بولنے تک کی بھی استعداد نہیں رکھتے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ صرف معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر کامل نگرانی کے لئے وہاں مامور کئے گئے ہیں۔یہ مینوں اصحا پورے مشرقی پاکستان میں وسیع پیمانے پر دورے کر کے حالات پر قابو پانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں یا مذکورہ خبر میں حقیقت پسندی کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اس پر گوئبلز کی روح بھی کھڑک اٹھی ہوگی۔کیونکہ ایک مختصر سی عبارت میں نہایت خوبصورتی سے متعدد جھوٹ اور افترا دین کریمینے کا سلیقہ ایسا ہے جس میں ان کا آج تک کوئی حریف پیدا نہیں ہو سکا۔حقیقت حال یہ ہے کہ : - اول : مولوی ظل الرحمن صاحب - 4 سال کی عمر پالینے پر صدر انجین احمدیہ کے قواعد کے مطابق یکم دسمبر 120 سے ریٹائر ڈ ہیں اور آج تک انہیں باقاعدہ پینشن مل رہی ہے۔سلسلہ کے اس دیرہ بینہ اور مخلص خادم کو پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ کام کر سکتے ہیں تو انہیں دوبارہ کام پر لگایا جا سکتا ہے مگر انہوں نے اپنی بیماری اور عمر کے پیش نظر معذوری کا اظہار فرمایا ہے۔کیا معطل ہو نا اسی کو کہتے ہیں۔¡