تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 101
دوهر : - جناب مولانا مولوی جلال الدین صاحب شمسی مہینوں صاحب فراش رہے ہیں آپ کافی عرصہ میو اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد تبدیلی آب وہوا کی غرض سے گزشتہ چار ماہ کوئنٹ میں فروکش رہے اور اب دو ہفتے ہوئے ہیں کہ کوئٹہ سے واپس ربوہ تشریف لائے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس اخبار کے نامہ نگار کو یہ بھی علم نہیں کہ کوئٹہ اور برمین بڑیہ دو الگ الگ علاقوں کے شہر ہیں۔ایک مغربی پاکستان میں ہے تو دوسرا مشرقی پاکستان میں یعنی ایک مشرق میں ہے تو دوسرا مغرب ہیں۔سود : حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد جنہیں مفروضہ وفد کا دوسرا نمبر دکھایا گیا ہے۔دس۔ماہ قبل رو بر شواہ) میں انتقال فرما چکے ہیں۔خدا جانے وہ کون سے مولوی عبدالرحیم درد ہیں جن کی زیارت حال ہی میں اس اخبار کے نامہ نگار نے کی ہے۔* چهارم : خاص مبلغین میں سے ایک مبلغ مکرم جناب مولوی رحمت علی صاحب ہیں جو دسمبر شر سے میو اسپتال میں زیر علاج ہیں اور دوسرے (مولوی محمد اجل شانہ ) تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں پڑھاتے ہیں مگر اس اختبار کی فین خبر سازی کا کمال ملاخطہ ہو۔کس طمطراق سے منادی کر رہے ہیں کہ:۔یہ تینوں اصحاب پورے مشرقی پاکستان میں رسیع پیمانہ پر دورے کر کے حالات پہ قابو پانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں " پنجم :۔خدا کے فضل سے اس وقت مشرقی پاکستان میں سلسلہ احمدیہ کے چھ مرتبی فریضہ اصلاح دارشاد سرانجام دے رہے ہیں۔جن میں پانچ مشرقی پاکستان کے باشندے اور صرف ایک مغربی پاکستان کے رہنے والے ہیں اور ان سب کے انچارج اور نگران ایک بنگلہ جاننے والے بنگالی ہیں۔ان را منع حقائق کی موجودگی میں بنگلہ نہ جاننے والوں کو نگران کے لیے مقرر کرنے کا تاریک میال اسی اخبار کے ظلمت خانوں کی پیداوار نہیں تو اور کیا ہے ہے۔سه روز نامه الفضل ربده ۱۷ اکتوبر ۱۹۵۶ صفحه ۲