تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 97
96 کما حقہ التجزیہ کرتے ہوئے یہ فقرہ لکھا تھا کہ یہ بچہ ابھی زندہ ہے اور راہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی آئے۔اور اُسے اٹھا کر گود میں لے لے اور ہم آج متذکرہ بالا حقائق و شواہد کی بنا پر امن عامہ کے تحفظ کے داعیوں اور رشتہ داروں کو خبر دار کرتے ہیں کہ اُس بچے کو پھر گود میں لے لیا گیا ہے۔چنانچہ حسب سابق اس کی نشو ونما اور تشہیر کے لئے ایک طرف علماء نے فتنہ انگیزی سے بھرے ہوئے حلقہ اور قصبہ وارلیکچروں کی اور دوسری طرف بعض نامراد اخباروں نے انگارے اُگلتے ہوئے صحافتی کالموں کی مہم پھر تیز کر دی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ذمہ دارانہ فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے ابھی سے کھنے کا اہتمام کرتی ہے یا ملک قسم کی بے پر دائی اور بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کے سروں سے گزرنے کا انتظار کرتی ہے۔دومین نشین رہے کہ بھڑک کر بے قابوادر اپنے پرائے کی تمیز سے بے گانہ ہو جانا آگ کی حضرت اوّلین ہے۔ذمہ داریت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے بھڑکنے ہی نہ دیا جائے۔بھارت کے مشہور صحافی سردار دیوان سنگھ اخبار یاست، دہلی کی دلچسپ تجویز مفتون نے اپنے انبارہ ریاست میں فقہ منافقین کو احمدیوں کی خلافت کے متعلق خانہ جنگی سے تعبیر کیا اور اپنے سکھ مذہب کی تاریخ کے پیش نظر یہ دلچسپ تجویز پیش کی کہ جماعت کے موجودہ امام وخلیفہ یا تو اپنی زندگی میں آئندہ خلیفہ کا اعلان کر دیں یا ایک خفیہ وصیت کے ذریعہ نامزد کر دیں جس پر انتقال کے بعد عمل ہو چنانچہ لکھا :۔احمدیوں کی خلافت کے متعلق خانہ جنگی۔ایک عرصہ سے احمدی حضرات کے آئندہ خلیفہ کے مسئلہ کو بعض اخبارات میں زیر بحث لایا جارہا ہے جسے یقیناً جماعت احمدیہ کی خانہ جنگی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد تھے جنہوں نبوت کا دعویٰ کیا۔ان کے بعد اس جماعت کے خلیفہ اول کی پوزیشن مرحوم حکیم نور الدین کو حاصل ہوئی جو نہ صرف مذہبی حیثیت سے بلکہ طبی لحاظ سے بھی ملک کی ایک اہم ترین شخصیت تھے اور آپ کے انتقال کے بعد موجودہ خلیفہ حضرت بشیر الدین محمود مقرر ہوئے جو اس جماعت