تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 86
AY لے بلکہ تو اس کے اعمال کی طرف دیکھ اگر اس کے اعمال ذلیل نظر آئیں تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص تمہارے پاس اگر قسمیں کھاتا ہے اور اس کے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے اعمال ناقص ہیں وہ نما نہ روزہ میں شکست ہے نیکی اور تقویٰ سے عاری ہے تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا تمہیں کھانا اس کی منافقت کی دلیل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِن أَفْوَاهِهِمْ ان کے منہ سے بعض بعض کی باتیں نکلی ہیں جن سے ان کی دشمنی ظاہر ہوگئی ہے دما تُخْفِي صُدُورُهم اكبر اور جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ اگر کسی کی منافقت کی بعض باتیں معلوم ہو جائیں تو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس کی دوسری باتیں ثابت نہیں ہوئیں درست نہیں ہوتا۔اگر اس کی بعض منافقانہ باتیں ثابت ہو چکی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ باقی باتیں بھی اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔پھر ہر چیز کا میلان ہوتا ہے ایمان کا بھی میلان ہوتا ہے نفاق کا بھی میلان ہوتا ہے اور کفر کا بھی میلان ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ایک بنی کی کسی پیشگوئی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ جھوٹی نکلی ہے تو اگر اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ گل باقی پیشنگوئیوں کو بھی درست تسلیم نہیں کرتا تو ہمیں اس کے ماننے میں کوئی دریغ نہیں ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا فقد لَبِثْتُ نِيَكُمْ عُمَرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تعتقدون سے کہ دعوی نبوت سے پہلے میں تم میں ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں کیا تم میں عقل نہیں کہ میری اس زندگی پر غور کرے۔اب اگر کوئی شخص کہہ دے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نعوذ باللہ فلاں برائی تھی۔تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے صرف یہ کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بُرائی ہے۔باقیسے له ال عمران : آیت ۱۱۹ : سه یونس : 16