تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 87 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 87

AL برائیوں کا تو اس نے ذکر نہیں کیا۔بلکہ اگر وہ آپ کی طرف ایک جھوٹ منسوب کرتا ہے۔تو وہ آپ کی طرف لاکھوں اور کروڑوں جھوٹ بھی منسوب کر سکتا ہے بہر حال جو بات اس کے متعلق معلوم ہو چکی ہے وہ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ میں آجائے گی اور جو بات معلوم نہیں لیکن اس کے متعلق کہی جاتی ہے وہ دما تُخفي صُدُورُهُم البروت میں آجائے گی یعنی اگر کسی کے اندر مفتی را سا گند پایا جانا ثابت ہو جائے تو اس کے اندر زیادہ گند کا پایا جانا بھی ماننا پڑے گا۔پس دوستوں کو صرف ان باتوں کی طرف ہی نہیں دیکھنا چاہیئے جو منافق کہتا ہے بلکہ " انہیں ان باتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو اس کے اندر مخفی ہوتی ہیں۔کیونکہ وہ ان سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اپنی منافقوں کو دیکھ لو جنہوں نے اب فتنہ برپا کیا ہے ان کے جھوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ایک منافق نے میاں بشیر احمد صاحب کے متعلق ایک بات بیان کی تھی۔جب ہم نے راولپنڈی کے مربی سے دریافت کیا کہ اس نے فلاں شخص کو اپنے ہاں کیوں ٹھرایا تو اس نے بیان کیا کہ اس منافق نے میاں بشیر احمد صاحب کے متعلق فلاں بات بیان کی منفی جس کی وجہ سے میں نے اسے اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔لیکن میاں بشیر احمد صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ سب جھوٹ ہے بہر حال جب کوئی شخص ایک جھوٹ بولتا ہے تو وہ ہزار جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔صرف ایک جھوٹ ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اگر ایک جھوٹ ثابت ہو جائے تو باقی سارے جھوٹ خود بخود ثابت ہو جاتے۔۔۔بہر حال اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا تُخْفِي ہیں مدور ھذہ اکبر کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ بہت بڑا ہے اور چونکہ هم دلوں کی صفائی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے صرف بریز دلیوشن پاس کہ کے بھجوادینے سے کچھ نہیں بنتا۔کیونکہ منافق جو منصوبہ سوچتا ہے وہ دل میں سوچتا ہے۔میں نے سفر ۳-۲-۱- آل عمران : ۱۱۹ :