تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 61 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 61

کا سامان اور گرم اور سرد پارچات تھے تحصیل شکر گڑھ بھجوایا ، ٹرک کے ساتھ قائد خدام الاحمدیہ اور آٹھ خدام تھے۔یہ ٹرک اگرچہ رستے کی خرابی کے باعث منزل مقصود تک نہ پہنچ سکا۔تا ہم سامان کو اونٹوں پر لاد کر بعض قریبی دیہات تک لے جایا گیا جہاں سے سرفروش خدام نے اپنے سروں پر اُٹھا کر راتوں رات دریا کے پار پہنچا دیا اور سیکٹر کمانڈر صاحب اور دیگر حکام کی زیر نگرانی تقسیم کیا۔ضلع سیالکوٹ میں سب سے زیادہ نقصان بدوملہی میں ہوا۔یہاں پانی بارہ سے پندرہ فٹ تک بہہ رہا تھا اور کوئی انسانی طاقت بچانے والی نہ تھی۔کئی لاکھ کی جائیدادیں تباہ اور کئی قیمتی جانیں لقمہ اصل ہو گئیں اور غلہ منڈی زمین میں دب گئی۔شہر میں اس قدر تعفن اور بو پھیلی کہ دیا پھوٹنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔چنانچہ مقامی حکام کے مشورہ سے جماعت احمدیہ سیالکوٹ کی طرف سے پندرہ جوانوں کا ایک دستہ شہر کی گلیوں اور سٹرکوں کی صفائی کے لئے بھیجوایا گیا جس کے انچارج خواجہ محمد امین صاحب تھے۔اس دستہ نے بھی مثالی محنت اور جانفشانی اور اخلاص سے کام کیا۔جس پر سیکٹر کمانڈر صاحب بدوملہی نے یہ تحریری سرٹیفکیٹ دیا کہ بر جو کچھ جس نے انہیں کہا ، انہوں نے بڑی خوشی محنت اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیا اور لوگ بہت خوش ہوئے۔شہر میں جو کام ان کی طاقت میں تھا ، انہوں نے کر دیا ہے، اب تو لوگوں کے مکانات وغیرہ بنانے اور مدد کرنے کا کام باقی ہے وہ بھی انہوں نے کافی کیا ہے۔(۸)۔لائل پور (فیصل آباد ) د امیر جماعت ر شیخ محمد حد صاحب فرید کوٹ قائد مجلس خدام الاحمدیه ، چو مهدی اعلام ستگیر ناب سیلاب کی تند و تیز لہریں اس ضلع میں ، ا ر اکتوبر کو داخل ہوئیں۔اور اسی روز احمدیوں نے امیر جماعت اور قیادت مجلس کی زیر نگرانی امدادی مساعی شروع کر دیں اور حکام ضلع کی راہنمائی ، سر پرستی اور ہدایات پر کمالیہ سے ڈھائی میل دور احمد یہ ریلیف ے ماہنامہ خالد ربوہ جنوری ۱۹۹۶ ۱۳۱۰ تا ۳۴