تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 59
۵۹ (۵) مغلپورہ ریڈنٹ : عبدالحکیم صاحب، قائد مجلس : مرزا محمد اسلم صاحب ) لاہور کی طرح اس مجلس کی امدادی سرگرمیاں سیلاب کی خبر پاتے ہی شروع ہو گئیں۔چنانچہ قائد مجلس کی معیت میں پہلی ریلیف پارٹی موضع محمود بوٹی میں پہنچی اور سیلاب سے گھرے ہوئے مسلمان باشندوں اور چار عیسائی خاندانوں کو اونچی جگہ پر منتقل کیا۔ازاں بعد اگلے دن ( اکتوبر کو ) یہاں ریلیف کیمپ قائم کیا اور پولیس اور حکام کے تعاون سے سیلاب زدگان کو خوراک اور طبی امداد بہم پہنچائی۔در اکتوبر کو مجلس نے اپنے وسیع پروگرام کے تحت ایک ریلیف پارٹی جس میں ایک ڈاکٹر پانچ فرسٹ ایڈرز اور سات مدد گار تھے کشتی کے ذریعہ لٹ گڑھا اور مرل میں نیچی۔یہ بد نصیب دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔اُن کے پاس خوراک تھی نہ بیٹھنے کے لئے مگر۔دلدل میں پھنسے ہوئے دیہاتی عوام حیران تھے کہ احمدی نوجوان سامان خوراک اور ادویہ لے کہ کیسے پہنچ گئے۔9 اکتوبر کو مجلس کی دو امدادی پارٹیوں نے محمود بوٹی بند سے آٹھ میل کے رقبہ میں امدادی خدمات سرانجام دیں۔اور اکتوبر کو مجلس مغلپورہ کی ایک پارٹی قائد مجلس کی نگرانی میں روانہ ہوئی۔یہ پارٹی ایک کشتی میں کمبیل ، سامان خوراک چینے اور ضروری طبی امداد کا سامان ساتھ لے گئی۔پانی اُس دن بہت گہرا اور تیز تھا۔کشتی درختوں کے ایک جھنڈ میں پھنس گئی اور بڑی مشکل سے ایک دوسری کشتی کی راہ نمائی سے اسے نکالا گیا۔واپسی پر شام ہو چکی تھی۔ایک مستری کو راہ نمائی کے لئے ساتھ لیا۔مگر اندھیری رات اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے پانی میں وہ بھی اچھی راہنمائی نہ کر سکا۔اس موقع پر معلس کے دو قادم محمد رشید صاحب اور رشید احمد صاحب چوہدری نے کشتی کو نکالنے میں بڑی بہادری کا ثبوت دیا۔وہ دو میں تک کشتی کو پانی میں اُتر کر کھینچتے چلے گئے اور رات گئے خشکی پر اُترنے میں کامیاب ہوئے۔نواحی دیہات میں کام کرنے کے بعد مغلپورہ کے احمدی نوجوانوں نے 4ار اکتوبر سے اپنی مساعی کا رخ لاہور شہر کے بعض سیلاب زدہ حصوں کی طرف موڑ دیا اور اُس کی طبی پارٹیوں نے کرشن نگر کی جامع مسجد کے قریب ایک معیتی مرکز قائم کر کے مریضوں میں دوائیاں تقسیم کیں۔اگلے