تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 55
۵۵ پہنچنے کے لئے دشوار گزار راستے اس پارٹی کے لئے کبھی سد راہ نہ بن سکے۔میں بلا خوف تردید یہ کہ سکتا ہوں کہ ان لوگوں نے تنظیم ، اتحاد اور یقین سے اپنے کام کو سرانجام دیا۔خدا انہیں ہمیشہ کامیابی عطا فرمائے۔(دستخط) میڈیکل آفیسر انچارج مانگٹانوالہ سیکٹر ضلع شیخو پوره " در نومبر داء نہ گوہ کے احمدی نوجوانوں اور بزرگوں نے مشرقی بنگالی کے سیلاب زدگان کی امداد میں بھی سرگرم حصہ لیا اسی طرح مغربی پاکستان کے مختلف ریلیف سنٹروں کو پارچات بھی روانہ کئے نیز احمدی خوانین کی بین الاقوامی تنظیم لجنہ اماء اللہ کی مقامی شاخ نے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امانت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے اُن خوش قسمت رضا کاروں کی تعداد جنہیں مختلف ریلیف سنٹرز میں خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔قریباً ایک سو چودہ تک پہنچ گئی جن میں دمشق کے احمدی نوجوان اسید سلیم النجابی بھی شامل تھے جو ان دنوں ربوہ آئے ہوئے تھے۔خلیس تعدام الاحمدیہ ربوہ کے رضا کاروں نے سیالکوٹ اور خانیوال میں بھی امدادی خدمات انجام دیں۔ربوہ سے جانے والے چار معمار خدام کو نادار اور غریب لوگوں کے مکانات بنانے کے لئے بدوملہی سیکٹر کمانڈر کے زیر انتظام متعین کیا گیا۔ان معماروں نے جس برق رفتاری سے مکانات تعمیر کئے۔اس سے مقامی لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ربوہ کے یہ رضا کا رجب مصروف عمل ہوتے تو بہت سے لوگ اُن کو دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے۔اگر چہ هر روز چودہ خدام اور انصار ان معماروں کے ساتھ بطور مزدور کام کرتے تھے مگر ان سرفروشوں کے ساتھ بمشکل پورے اُتر سکتے تھے خانیوال جانے والی امدادی پارٹی معتمد مجلس ربوہ مولوی عبدالباسط صاحب کی زیر قیادت ۴ دسمبر کو خانیوال پہنچی اور لیستی محمود الحق کی منہدم مسجد کو از سر نو تعمیر کرنے کے علاوہ متعدد مکانات اور رہائشی جھونپڑیوں کی تعمیر میں حصہ لینے کے بعد دسمبر کو رہو پہنچی ہے 14۔رسالہ "خالد" ربوہ جنوری شیر ص ۲۴۹ ، الفضل اکتوبر و نومبر ۱۹۵۵ء