تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 48 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 48

بھیجوائے غرضیکہ جس طرح ملک پر آنے والی یہ آفات اپنی مثال آپ تھیں اسی طرح احمدی جوانوں کا جوش عمل اور بے لوث جذبہ خدمت بھی بے نظیر تھا۔در اصل حضرت مصلح موعودہ مدتوں سے خدمت خلق کی جو علمی و عملی ٹرینینگ نو نہالان جامات کو دیتے آرہے تھے۔اس کے وسیع اثرات و برکات آب پبلک میں ایک واضح اور منتظم شکل میں آنے شروع ہو گئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عوام نے ان کی سرفروشانہ سرگرمیوں پر زبر دست خراج تحسین ادا کیا اور ملکی پریس اور خبر رساں ایجنسیوں نے بھی ان کی اشاعت میں غیر معمولی دلچسپی لی۔جماعت احمدیہ پاکستان کی رضا کارانہ خدمات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد متناسب ہو گا کہ اُن احمدی جماعتوں اور مجالس خدام کا کسی قدر اجمالی تذکرہ بھی ضرور کر دیا جائے جن کو ان دنوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے قومی اور ملکی فرائض بجا لانے کی نمایاں توفیق ملی۔(1) ڈھاکہ (امیر مشرقی بنگال سے کیپٹن خورشید احمد صاحب) سید نا حضرت مصلح موعودہ ابھی لنڈن میں تشریف فرما تھے کہ حضور کو مشرقی بنگال کے سیلاب کی اطلاع ہوئی۔حضور نے تیرہ ہزار روپے بے خانماں لوگوں کے لئے منظور فرمائے اور بذریعہ برقیہ جماعت کو بھی تحریک فرمائی کہ " وہ بھی اپنی استطاعت کے مطابق سیلاب زدگان کی مدد کے لئے چندہ دیے کیونکہ آپ کے بھی وہاں سیلاب گذشتہ سال کی طرح خطرناک نوعیت اختیار کر گیا ہے۔۔۔حضور کا ارشاد پہنچتے ہی بنگال کی مرکزی انجمن احمدیہ ڈھا کہ نے بلا تاخیر ریلیف کا کام شروع کر دیا چنانچہ سب سے پہلے انجمن کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ مسٹر ابو حسین سرکار کو اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کیں اور پھر افسران حکومت سے مشورہ کے بعد پگلہ، چالش ہرا ، برہمن بڑیہ ، میر پور کالونی ، نارائن گنج اور پاڑہ میں ریلیف سنٹر کھول له حال بنگلہ دیش - ۵۲ روز نامه" الفضل " ۱۳ اگست و ۲۵ اگست ۹۵۵اه ما