تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 46
قادیان کے ان احمدی حضرات کو یقیناً درویش قرار دیا جا سکتا ہے۔جو سیلاب کی تباہی کے دنوں اپنی مصیبت کو بھول گئے۔اور جنہوں نے اپنے گر چکے یا گر رہے مکانات کی پروا نہ کرتے ہوئے دیہات میں پہنچ کر دیہاتیوں کو سیلاب کی تباہی سے بچانے کی کوشش کی۔اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کو اپنا فرض قرار دیا۔احمدی جماعت ایک مذہبی جماعت ہے۔اور ہمارا یہ پھیلا تجربہ ہے کہ اس جماعت میں نیک اور بلند لوگ دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر اوسطا زیادہ ہیں۔چاہے اس کی وجہ اس جماعت کے حلقہ کا محدود ہونا ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ ہر مذہب جب تک محدود رہا۔اس میں اچھے لوگوں کی کثرت رہی۔اور جب اس نے وسعت اختیار کی تو اس میں غلاظت بھی بڑھتی چلی گئی چنانچہ فسادات کے زمانہ میں زندگی اور موت کی کشمکش سے بے نیاز ہو کہ قادیان کے کئی سو احمدی حضرات کا قادیان میں موجود رہنا اور اپنی مذہبی عبادت گاہوں اور بزرگوں کے مقبروں کو نہ چھوڑنا ان کی بلندی کا بہت بڑا ثبوت تھا۔اور اب ان لوگوں نے سیلاب کے زمانہ میں ضلع گورداسپور کے دیہاتیوں کی جو خدمت سرانجام دی۔اسے بھی ان کے مذہبی شعار کی بلندی قرار دیا جا سکتا ہے۔جس کی ہر شخص سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ہماری خواہش ہے کہ یہ حضرات آئندہ بھی اس طرح ہی خدا کی مخلوق کی خدمت کو ایک فرض سمجھے کہ انجام دیں۔اور جہاں تک بھی ممکن ہو اس خدمت اور فرض کو پروپگنڈا سے دور رکھا جائے۔کیونکہ اگر خدمت فرض یا سروس کے ساتھ پروپگینڈا کی آلائش بھی شامل ہو تو اس کا اثر فرض شناسی اور خدمت گزاری پر اچھا نہیں پڑتا ہے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں پاکستان کو شکار میں دوہری آلات شہداء کی تباہ کاریوں سے دوچار ہونا پڑا۔پہلے ۱۲ فروری اور ۱۹ فروری کو زلازل کے پے درپے جھٹکوں نے بلوچستان میں نه "ریاست ۲۱ نومبر ۱۹۵۵ء بحواله الفضل ۲۹ نومبر ۹۵۵اء ما