تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 45
۵ام خاص قادیان میں ہمارے دس خدام نے مکرم مولوی برکت علی صاحب انچارج تعمیرات کی نگرانی میں تین چار روز کی محنت اور بہت سے محلہ دار الرحمت میں سردار جیون سنگھ صاحب کے رہائشی مکان۔۔۔کی تعمیر مکمل کر دی ہے اور ہماری پیشکش کے مطابق قادیان کی کانگریس کی طرف سے نہیں کسی اور حقیقی مستحق اور ضرورت مند غیرمسلم کے مکان میں تعمیر کی امداد کے لئے اطلاع دی گئی تو ہم خوشی سے ایسی خدمت کے کام کو سرانجام دینے کو تیار ہوں گے یہ " بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ درویشان قادیان کی ان قابل قدر اور ناقابل فراموش مساعی کا چرچا بھارتی پریس میں بھی ہوا۔چنانچہ دہلی کے مشہور ہفت روزہ "ریاست" نے لکھا کہ :۔" اس سال سیلاب کے باعث پنجاب میں جو تباہی نازل ہوئی۔اس کی مثال پچھلی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ امرتسر اور گورداسپور وغیرہ اضلاع میں گھروں کے اندر چھ چھ فٹ تک پانی پہنچ گیا۔جس کے باعث نوے فیصدی مکانات کو نقصان پہنچا۔اور قادیان ضلع گورداسپور سے جو اطلاعات آئی ہیں۔ان کے مطابق وہاں کی احمدی جماعت کے ۷۰ ۷۵ فیصدی کے قریب مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اور مکانات میں جو سامان تھا وہ الگ تباہ ہوا۔اور یہ واقعہ دلچسپ ہے کہ قادیان کے احمدی حضرات نے جب قریب کے دیہات کی تباہی کی خبریں سنیں تو یہ اپنی تباہی کو بھول گئے۔اور انہوں نے دیہات میں جاکہ ان لوگوں کو بچایا۔جو دیہات بالکل ہی تباہ ہو چکے تھے۔اور اب بھی یہ لوگ ان دیہات کے لوگوں کے لئے غلہ اور کپڑے پہنچانے میں مصروف ہیں۔ایک درویش کا شعار ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضرورت کے مقابلہ میں دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دے۔اگر کوئی دوسرا شخص بھوکا ہو تو خود بھوکا رہتے ہوئے کبھی اپنا کھانا دوسروں کو دے۔درویشانہ زندگی کے اس اصول کے مطابق ل ملخصاً از هفت روزه بدر قادیان در ستمبر ۶ تا ۲۸ نو به ۱۹۵۵ نه