تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 44 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 44

کی امدادی پارٹی نے علاقہ بیٹ کے تمام دیہات میں پھر کو مصیبت زدہ افراد کی امداد اور مریضوں کے علاج کا کام کیا، میں جس کا اظہار الفاظ میں مشکل سے کر سکتا ہوں۔ان لوگوں کی بے غرض خدمت اور سیوا کا کام بے حد شکریہ اور مبارک بادی کا مستحق ہے۔دشری پیارے لال صاحب نائب تحصیلدار کا منوان) اگر چہ پھیرو پیچی کا امدادی کیمپ شب و روز خدمت بجا لانے کے بعد 14 نومبر کی شام کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا لیکن جماعت احمد یہ قادیان کی رفاہی اور طبی سرگرمیاں کئی دنوں تک زور شور سے بدستور جاری رہیں۔چنانچہ علاقہ بریٹ کے پریشان حال مریض اور ضرورت مند لوگ متواتر اپنے علاج اور کپڑوں وغیرہ کی امداد کے لئے قادیان پہنچتے رہے اور مرکز احمدیت کی طرف سے حسب حالات ان کی خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔اس کے علاوہ قادیان کے ارد گرد کے متاثرہ دیہات تک درویشوں کی طبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں۔اور سینکڑوں ایسے مریض جو اپنی مجبوریوں کے باعث قادیان کے احمدی شفا خانہ میں نہیں آسکتے تھے، اُن کے گھروں تک دوائیں پہنچا دیں۔دو احمدی و سپنر چوہدری غلام ربانی صاحب اور ملک بشیر احد صاحب ناصر باری باری دیہات کا دورہ کرتے رہے۔اس انتظام کے ماتحت ۲۳ نومبر تک مندرجہ ذیل بارہ دیہات میں قریباً ایک ہزار مریضوں کا تسلی بخش طور پر علاج کیا گیا در تغل والا - رجاده - ٹھیکری والا - نت - موکل -لیل کلاں۔بوہڑ۔کا ہلوان۔بھرانواں۔رام پورہ - کوٹلہ - کاظم پورہ - طبی امداد کے علاوہ ان دیہات سے کئی افراد بغرض امداد قادیان پہنچے اور باوجود مالی مشکلات کے مرکز کی طرف سے اپنی توفیق اور بساط کے مطابق کسی نہ کسی رنگ میں اُن کی خدمت ضرور کی گئی۔در دیشان قادیان نے اس موقع پر بعض منہدم مکانات کی از سر نو تعمیر میں بھی حصہ لیا۔جیسا کہ شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ناظر امور عامہ قادیان کے مندرجہ ذیل بیان سے ظاہر ہے :-