تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 532
۵۳۲ آپ اوسلو اور گوٹن برگ میں مساجد کا دورہ کرنے کے بعد یہاں تشریف لائے ہیں۔آج آپ یورپ کے جنوبی علاقوں کی مسجدوں کے دورہ پر روانہ ہو جائیں گے۔آپ کا یہ دورہ ستمبر میں اٹلی اور سپین میں دو مسجدوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گا۔دیاد رہے اٹلی میں مسجد کی تعمیر کے انتظامات بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے ہیں۔سپین میں حضور نے مسجد کا افتتاح فرمانا تھا جو بفضل اللہ تعالی - ار ستمبر کو عمل میں آیا فالحمد للہ۔ناقل )۔خلیفہ مسیح کے ہمراہ آپ کی بیگم اور دو چھوٹی صاحبزادیاں بھی کوپن ہیگن آئی ہیں۔آپ شاید میں بھی اپنی دو بڑی صاحبزادیوں کے ہمراہ یہاں تشریف لائے تھے۔ان دونوں صاحبزادیوں کی اب شادی ہو چکی ہے۔آپ اپنے خاندان کے ہمراہ ربوہ میں رہتے ہیں جو پاکستان کا ایک شہر ہے۔یہ شہر جماعت احمدیہ کا مرکز ہے جوش ہی اء میں بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے بعد ایک بنجر علاقہ میں تعمیر کیا گیا ہے۔گفتگو کے دوران خلیفہ اسی نے فرمایا خلافت کا بوجھ بہت بھاری بوجھ ہے اور بہت عظیم ہے۔یہ ذمہ داری۔ہمارا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ اسلام کے دائرہ میں رہیں بلکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ دنیا کا ہر شخص اس میں داخل ہوتا کہ وہ آنے والی تباہی سے بچ سکے۔اسلام تمام بنی نوع انسان کی آخری پناہ گاہ ہے۔انہیں اس دین واحد پر جمع ہو جانا چاہیئے۔خلیفہ اسیح نے بڑے فخر سے بتایا کہ اُن کی جماعت کا کوئی رکن بھی ناخواندہ نہیں ہے اور جماعت میں تعلیم کا معیار بہت بلند ہے اور یہ کہ تعلیم حاصل کرنے میں عورتیں بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا میری اہلیہ کا لج میں زیر تعلیم رہی ہیں لیکن اس دوران ہماری شادی ہو گئی۔اور وہ گھر اور بچوں کی دیکھ بھالی میں ہمہ وقت مصروف رہنے لگیں۔جب سے میں خلیفہ بنا ہوں ان کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔، اور ان پر بھی کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔خلیفہ ایسیح نے بتایا کہ پاکستان میں واقع جماعت کے مرکزہ میں کام کرنے والے سٹاف کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔وہ تین بجے صبح بیدار ہوتے ہیں۔ساڑھے چار بجے وہ پہلی نماز دنماز فجر ادا کرتے ہیں ، گھنٹہ دو گھنٹہ کی نیند کے بعد وہ سات بجے پھر بیدار ہوتے ہیں۔