تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 529 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 529

۵۲۹ نظام زکواۃ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔در اگست ۱۹۴۷ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اوسلو سے گوٹن برگ روانگی تشریف لے گئے۔سکینڈے نیو یا بریس میں چرچا خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت خلیفہ المسیح این الرابع کے اوسلو میں آٹھ روزہ قیام کا سکنڈے نیویا پریس میں غیر معمولی چیہ چاہوا۔(۱) ملک کے ہفتہ وار وسیع الاشاعت اخبار روزنامه گوٹن برگ پوسٹن GOTEN BORG POSTEN نے ار اگست ۲ء کے شمارہ میں لکھا " سوموار کا دن گوٹن برگ میں احمدی مسلمانوں کے لئے ایک بہت اہم دن تھا کیونکہ اُس روز اُن کے روحانی پیشوا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے احباب جماعت سے ملاقات کی۔آپ سفید پگڑی اور شیروانی میں ملبوس تھے۔آپ نے اپنے پیرووں سے گلابی رنگ کی خوبصورت مسجد میں تو HOGS BOHOTO میں واقع ہے ملاقات کی خلیفہ بننے کے بعد یہ آپ کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے : " خلیفہ " کا مطلب ہے بانی جماعت احمدیہ کے جانستین۔بانی سلسلہ احمدیہ اٹھارھویں صدی کے اواخر میں ہندوستان میں مبعوث ہوئے۔خلیفہ ایسیح جو پاکستان سے تشریف لائے ہیں آجکل پورے یورپ کا دورہ فرما رہے ہیں۔تا کہ قرآن کریم کی تعظیم کو دنیا بھر میں پھیلانے کی مہم کو تیز کر سکیں، پروگرام کے آخری مرحلہ میں آپ نے سپین میں نو تعمیر شدہ مسجد کا افتتاح فرمانا ہے۔یہ سب سے پہلی مسجد ہے جو دسپین کے شہر کے قریب ) سات سو سال سے زائد عرصہ کے بعد تعمیر کی گئی ہے۔احمدی مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح موعود دنیا میں آچکے ہیں اور وہی جماعت احمدیہ کے بانی تھے۔احمدی مسلمانوں اور دوسرے مسلمانوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دوسرے مسلمان ابھی تک مسیح موعود کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے بتایا کہ مسیح موعود لے انیسویں صدی چاہیے (ناقل)