تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 528 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 528

۵۲۸ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریباً دنیا کے ہر ملک میں پھیل چکی ہے اور اس میں روز بروز وسعت پیدا ہو رہی ہے۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مرکزی مجلس شوری کی طرز پر ملک میں بھی سال میں ایک بار شوری کا اجلاس ہوا کرے اور وہ اہم مقامی امور پر غور کر کے خلیفہ وقت کو مشورہ دیا کرے نیز ارشاد فرمایا۔اب چونکہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں پھیل چکی ہے ور ایسے جاعتی مسائل پیدا ہو چکے ہیں جو عالمی نوعیت کے ہیں۔اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ مختلف ملکوں کی جماعتوں کو شوری کی تربیت دی جائے۔اگر انہیں شوری کی تربیت نہ دی گئی تو خطرہ ہے کہ کہیں بعض ملکوں کی سوچ غلط راہ پر نہ چلی جائے اور وہ ڈیمو کریسی (جمہوریت ) کو ہی شورائی نظام نہ سمجھ لیں۔اس لئے کہیں آج تمام ملکوں میں شوری کا نظام رائج کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔شورٹی کے ضمن میں حضور نے فرمایا ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس میں خلیفہ وقت خود تو لمبی بات کہتا ہے۔لیکن دوسروں کو لمبی بات نہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے فریقہ وقت کو بصیرت عطا کی ہوتی ہے اور چونکہ اراکین نے مشورہ اسے دنیا ہوتا ہے اس لئے وہ خداداد بصیرت کی وجہ سے مختصر اشارہ بھی سمجھ جاتا ہے۔مشورہ کی پوری ماہیت اس پر از خود واضح ہو جاتی ہے۔خلیفہ وقت خود اس لئے بھی لمبی بات کرتا ہے کہ اسے سب کو سمجھانا ہوتا ہے اور معاملہ کی اہمیت کے مختلف پہلووں کو سب کے ذہن نشین کرانا ہوتا ہے احباب کو مشورہ پیش کرتے وقت اس امر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔شور کی کے اراکین کی بحث کے اختتام پر فرمایا۔یوں تو تربیت کے مختلف ذرائع پر احباب نے روشنی ڈالی ہے اور اس بارہ میں مشورے پیش کئے ہیں لیکن دعا کا کسی نے ذکر نہیں کیا حالانکہ دعا کے بغیر تربیت نہیں ہو سکتی۔شوری کے اجلاس کے معا بعد حضور نے ناروے کی مجالس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے اجلاسات کی صدارت فرما کہ ان کی کارگزاری کا جائندہ لیا۔مجلس ارشاد راحت حضور کے قیام اوسلو کا آخری دن تھا۔اس روز ہونے اٹھے بجے سہ پر حضور مجلس ارشاد میں رونق افروز ہوئے اور احباب جماعت کو نہایت بصیرت افروز ارشادات سے نوازا۔اور ایک گھنٹہ تک احباب کے سوالات کے جو ایتا دیئے۔اس دوران حضور نے حضرت عیسی علیہ السّلام کی بن باپ ولادت میں پوشیدہ حکمت اور