تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 524 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 524

۵۲۴ اور سراپا ایثار خواہ چند ہی ہوں وہ طاقت کا نہایت موثر ذریعہ ہوتے ہیں اور بالآخر غالب آ کہ رہتے ہیں۔ایک سوال یہ ہوا کہ یورپ کے ملکوں نے تو ویلفیر سٹیٹ کی شکل میں اپنے عوام کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں بہت کچھ کیا ہے۔اسلامی معاشی نظام کی رو سے اس بارہ میں آپ کے کیا نظریات ہیں۔اور اس میدان میں آپ کی جماعت کیا کہ رہی ہے ؟ حضور نے فرمایا ہر قوم کا معاشرتی ڈھانچہ ( SOCIAL SETUP ) اس کے معاشرتی فلسفه ( SOCIAL PHILOSOPHY ) پر۔۔مینی ہوتا ہے۔اسلام کا اپنا ایک معاشرتی فلسفہ ہے جس میں جسم اور روح دونوں کی ضروریات کو یکساں اہمیت دی گئی ہے اس کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہو گا۔سردست میں ان تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ویلفیر سٹیٹ کا نظر یہ جسمانی ضروریا تک محدود ہوتے ہوئے ہمہ گیر نہیں ہے۔ہر چند کہ جماعت احمدیہ تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے تاہم اول تو یہ خالصہ ایک مذہبی جماعت ہے دوسرے کہیں بھی اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلام کی سوشل فلاسفی کو پوری جامعیت کے ساتھ نافذ کر سکے۔اس لئے اس میدان میں اس کی کوششیں خدمت انسانیت تک محدود ہیں۔ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے محدود وسائل کے مطابق لوگوں کی معاشی مشکلات اس رنگ میں دور کریں کہ اُن کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور انسانی شرف پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔کیونکہ اسلام نے عزت نفس اور انسانی شرف پر بہت زور دیا ہے۔ہم حتی المقدور خدمت کرتے وقت انسان، انسان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔نامہ نگار نے سوال کیا کہ آپ کی نگاہ میں انسانیت کا مستقبل روشن ہے یا تاریک ؟ حضور نے فرمایا انسانیت کا مستقبل میرے نزدیک ایک حد تک تاریک اور بڑی حد تک تابناک ہے۔تاریک ان معنوں میں ہے کہ انسانیت اپنے پیدا کرنے والے سے دُور ہو کر تباہی کے قریب جا پہنچی ہے۔تباہی تو آٹے گی اور وہ ہوگی بھی بہت ہولناک لیکن انتہائی ہولناک تباہی کے باوجود انسانیت بچے کی ضرور مکمل تباہی کا شکار نہیں ہوگی۔پریس کا نفرنس مسلسل ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی اور ساڑھے بارہ بجے کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔۵ اگست کو ساڑھے تین بجے بعد دو پر مسجد نور سے ملحق احمد بیشن ہاوس استقبالیہ تقریب میں حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔جس میں