تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 522
۵۲۲ ہوتی ہیں۔خدا ہی توفیق دے تو یہ ذمہ داریاں ادا ہو سکتی ہیں۔اس لئے ہر بعیت کنندہ پر ایک یہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ جہاں مبیعیت کے عہد کو نبھاتے میں کوشاں رہے۔وہاں بعیت کے نتیجہ میں عائمہ ہونے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی خدا تعالیٰ سے توفیق مانگتا رہے۔بعت کی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔جہاں تک سبعیت کی حقیقت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے :۔انَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بان لَهُمُ الْجَنَّةَ (توبه : (١١) ترجمہ : اللہ نے مومنوں سے ان کے جانوں اور ان کے مالوں کو (اس وعدہ کے ساتھ) خرید لیا ہے کہ ان کو محنت ملے گی۔بعیت میں دراصل ایک مومن اللہ کے ساتھ سودا کرتا ہے۔وہ اپنی جان اور اپنا مالی اللہ کے ہاتھ بیچ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سودے کی قیمت اگر بیچنے والا اپنے عہد پر پوری طرح قائم رہے اور اس کا عملی ثبوت دیتا رہے جنت کی شکل میں ادا کرتا ہے یعنی وہ اُس کے لئے جنت مقدر کر دیتا ہے۔۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں ایک مرکزہ قائم فرمایا۔اصل خلیفہ اللہ آپ ہی ہیں۔یہ مرکز ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔لیکن اس کے مظہر بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے رہیں گے۔جب بھی مظہر بدلے گا اس کے ہاتھ پر بیعت کی تجدید ضروری ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کہ وہ اس مرکز کے ساتھ وابستگی قائم رہے۔آیت استخلاف کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ مرکز خلافت راشدہ کی شکل میں قائم رہا اور خدا تعالٰی مومنوں کے ہر خوف کو امن میں تبدیل کرتا رہا جب تک مومن شکر گزار بنے رہے خلافت بھی قائم رہی۔جب مسلمان ناشکری کے مرتکب ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے بموجب یہ نعمت اُن سے چھن گئی پھر آپ ہی کی پیشگوئی کے بموجب اس کا دوبارہ اجراء سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کے ذریعہ ہوا ہے اور آپ کے بعد یکے بعد دیگرے مظہر ظاہر ہوئے : اور ہو رہے ہیں۔جب بھی مظہر بدلے گا بیعت کی تجدید ضروری ہوگی۔اس کے بغیر وحدت قائم نہیں رہ سکتی اور گناہوں سے توبہ کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکتا۔روح بیعت یہ ہے کہ بیعت کرنے والا نفس سے خالی ہو کر کامل اطاعت کی روح اپنے