تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 521 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 521

۵۲۱ حضور نے مبلغین کی کانفرنس طلب فرمائی۔جس میں یورپ میں السلام کی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔علیہ السلام کی مہم کو تیز سے تیز تر کرنے کے سلسلہ میں انہیں ہدایات دیں۔نیز تبلیغ اسلام کی راہ میں حائل بعض مشکلات پر قابو پانے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی۔کانفرنس میں علیہ السلام کی نئی صدی کے استقبال کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔یہ کا نفرنس حضور کی صدارت میں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہی۔اس طرح جملہ تقریبات کے کامیاب افتتاح کے بعد حضور اسی روز اوسلو سے بذریعہ ہوائی جہا نہ ایمسٹرڈم روانہ ہو گئے۔سکنڈے نیویا میں حضور کی زندگی کا یہ آخری یادگار سفر تھا جس سے اسلام کا پیغام ایک نئی شان و شوکت کے ساتھ ملک کے کونے کونے تک پہنچ گیا ہے حضرت خلیفہ مسیح الا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ار ای ای دنیا را با ایده اشارات سیدنا حضرت خلیفہ الرابع ال الرابع ایدہ الہ تعالی کا بنصرہ العزیز نے جولائی اگست ۱۹۸۲ء میں پہلا سفر سکنڈے نیویا سکنڈے نیویا کا پہلا سفر اختیار فرمایا حضور ۲۸ جولائی ۱۸ء کو ریوہ سے روانہ ہوئے اور اس جولائی شاہ کو قریباً ایک بجے دوپہر اوسلو کے فضائی منتقر پر درود فرما ہوئے۔حضور کے استقبال کے لئے محترم کمال یوسف صاحب رمبلغ انچارج ناروے محترم حامد کریم صاحب ( مبلغ انچارج سویڈن ) اور محترم نور احمد بوستاد صاحب د نیشنل پریذیڈنٹ ناروے) اور سکنڈے نیویا کے دوسرے مخلصین نے حضور کا اور احمدی خواتین نے حضرت بیگم صاحبہ کا پرتپاک استقبال کیا۔حضور اوسکو کے احمدیہ مشن ہاؤس میں قیام فرما ہوئے۔یکم اگست کو حضور نے عصر کی نماز کے بعد تجدید بیعت کے طور پر دستی بعیت کی۔بعیت سے قبل حضور نے بیعت کی حقیقت، اس کی اہمیت اور روج بیعت پر بہت بصیرت افرونه انداز میں روشنی ڈالی حضور نے فرمایا ایک مومن کی زندگی میں سب سے اہم موقع وہ ہوتا ہے جب وہ خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بعیت کرتا ہے کیونکہ اس موقع پر وہ جو عہد کرتا ہے وہ کسی انسان سے نہیں بلکہ اپنے خدا سے عہد کرتا ہے۔خدا سے کئے ہوئے عہد کے نتیجہ میں انسان پر بہت اہم ذمہ داریاں عائد لے تلخیص کتاب " دورہ مغرب که " مش ۱۵ تا ۲۲۲۰ -