تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 520
۵۲۰ پر موجود آسٹریا ، بنگلہ دیش ، ترکی ، چین اور فرانس کے قونصل جنرل اور کئی دوسرے ملکوں کے سفارتی نمائندے اور اخبار نو میں شامل تھے جن میں سے اکثر نے احمد پیشن ہاؤس کے لائبریری روم میں بیٹھ کہ حضور کا خطبہ جمعہ بہت توجہ اور نہایت انہماک سے شستا، جمعہ اور عصر کی نمازوں کے بعد حضور مسجد سے ملحق لائبریری روم میں تشریف فرما ہوئے اور سفارتی نمائندوں تبادلہ خیال فرمایا۔نمائندوں نے مسجد کی تقریب افتتاح پر حضور کی خدمت میں مبارک باد پیش کی سوا چار بجے سہ پہر حضور آنے مسجد نور کے احاطہ میں نصب شده بلند و بالا پول پر کوائے احمدیت لہرایا جس کے ساتھ ہی احباب نے نعرے بلند کئے۔ناروے کی فضاؤں میں کوائے احمدیت لہلہانا اپنی ذات میں اس حقیقت کا ہمہ ملا اعلان تھا کہ :۔کوائے ماپنہ ہر سعید خواهد بود : نشان فتح نمایاں بنام ما باشد اس موقع پر اخبارات اور ٹیلیویژن کے فوٹو گرافر اور فلم سانہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے انہوں نے حضور کے بہت سے فو ٹولے اور مختلف نظارے فلمائے۔ایک فوٹو انہوں نے خود حضور کی خدمت میں درخواست کر کے خاص اہتمام سے اتارا یہ فوٹو مکرم نوراحمد صاحب بوستاد کے ساتھ کھینچوایا گیا۔مسجد کے افتتاح کی خبر نامہ دے کے اخباروں میں بہت وسیع پیمانے پر شائع ہوئی۔ن صرف اوسلو سے شائع ہونے والے تمام قومی اخباروں نے خیر اور فوٹو نمایاں طور پر شائع کئے بلکہ ملک کے دوسرے حقتوں سے شائع ہونے والے اخبارات ورسائل نے بھی اس خبر کو پورا اہتمام سے چھاپا اور بعض نے اس پر ادارتی نوٹ لکھے۔اوسلو کے میٹر نے ۲ اگست کو حضور کے اعزازہ میں اپنے آفس میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔جس میں حضور کو اہل شہر کی طرف سے افتتاح کی مبارکباد پیش کی۔اس افتتاح کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا اور شہر ناروے کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور اُن کی دینی و دنیوی ترقی قرار دیا اور خوشحالی کے ضمن میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا حضور نے اسلامی تعلیم کے محاسن و فضائل کو واضح کرکے بتایا کہ دنیا کے موجود مسائل اسلام کی بے مثال و لازوال تعلیم پر عمل پیرا ہونے سے ہی حل ہوں گے۔میر موصوف نے حضور کے ابر شادات کو دلچسپی، توجہ اور انہماک سے سنا - ۳ اگست کو حضور نے احباب سے ملاقات کی اور نہیں درد انگیز پیرایہ میں ۲ گھنٹے تک خطاب فرما کر ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ہم اگست کو