تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 518
۵۱۸ منظم چرچ مشن سوسائٹی نے کوشش کی کہ وہ تمام چوپا جو ہماری میٹنگ میں شمولیت کے لئے آئے یا جنہوں نے اتفاق کا اظہار کیا ان سے بائیکاٹ کر کے باقی چہ چوں سے ان کو علیحدہ کر دیا جائے نیز یہودیوں کے نمائنڈ نے پریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہ ہو۔اور مخصوص طور پر صرف ہمیں ہی ملے۔علاوہ ازیں تمام مخالفین اسلام نے جن میں تار بریخ مذاہب کے پروفیسر ، فضلاء اور پادری شامل تھے متفق طور پر کہا کہ یہ غلط بات ہے کہ مسلمان صرف یہ حقوق لیکر خاموش ہو جائیں گے بلکہ وہ اس وقت تک خاموش نہیں ہوں گے جب تک تمام کا تمام ڈنمارک مسلمان نہیں ہو جاتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلمانوں سے تو ہمیں کوئی خطرہ نہیں d اصل خطرہ ہمیں صرف مسلمانوں کے فرقے احمدیہ جماعت سے ہے۔نیز یہ کہ با وجود احمدیوں کی قلیل تعداد کے بہت جلد ڈنمارک کے کلچر پر اسلام کا اثر تمہایاں اور واضح ہوگا ؛ (پروفیسر CROSS HOLT) مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ بالآخر ۲۷ اگست ۹اء کو وزارت انصاف کی طرف سے با قاعدہ تحریری اجازت نامہ موصول ہو گیا۔اس طرح چہ پت کی طرح جماعت احمدیہ کے مبلغ کو بھی نام رکھنے اور نکاح پڑھانے کا اختیار مل گیا ہے دسمبر ۱۹۷۹ ء میں خدا تعالیٰ نے ایسا سامان مسود دور اوسلو کا حضرت علی اسح الثالث" فرمایا کہ ناروے کے شہر اوسکو کے وسط میں چار کے ہاتھوں مبارک افتتاح کنال پیشتمل ایک وسیع و عریض عمارت جماعت احمدیہ نے خرید لی اور اس طرح جہاں ڈنمارک اور سویڈن میں مساجد تعمیر کرنا پڑیں وہاں ناروے میں مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ایک تیار شدہ تین منزلہ عمارت مل گئی اور اس طرح اوسلو میں مسجد نور اور مشن ہاؤس کا قیام عمل میں آگیا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۲۷ دسمبر شاہ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔پچھلے ہفتے ایک بہت بڑی عمارت چار کنال ناروے کے سے رپورٹ کمال یوسف صاحب مبلغ انچارج ڈنمارک فائل تبشیر جنرل سکنڈے نیویا ۵۲۳ - سے فائل سویڈن مشن تحریک جدید به توه او ۱۳