تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 509 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 509

۵۰۹ پھیلانے کے لئے میدان تبلیغ کے طور پر ہمارے ملک کو منتخب کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ سویڈن میں جبکہ مذہبی لحاظ سے ایک نئی صبح کا جھٹ پٹا نمودار ہوا چاہتا ہے۔یہاں کے عیسائی اس نئی صورت حال کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں ؟ اس سنجیدہ سوال کا ☐ GOTEN BORG POSTEN آپ کے پاس کیا جواب ہے ؟ " (۳) - گوٹن برگ کے ایک اور اخبار گوٹن برگ پوسٹ" اپنی ۲۱ اگست کی اشاعت میں مسجد کے افتتاح کی تفصیلی خبر شائع کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کیلئے خوشی کا ایک خاص موقع قرار دیا۔تاہم اس نے اس خیر میں اپنی طرف سے ایک سراسر غلط بات بھی شائع کر دی اور وہ یہ کہ (نعوذ باللہ) مسجد میں عورتوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی تا کہ مسجد کی جگہ ناپاک نہ ہو جائے۔اگر چہ اخبار نے یہ سراسر غلط اور خلاف واقعہ بات اسلام کے بارہ میں غلط فہمی پھیلانے کی غرض سے شائع کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں سے ہی ایک خبر کا پہلو پیدا کر دیا اور وہ یہ کہ ہر طبقہ کے لوگ د خصوصا خوانمین ) بڑی کثرت سے اس کی زیارت کرنے آئے تھے۔صفحہ ۱۲ پر اخبار نے تین کالمی عنوان کے تحت جو خبر شائع کی اس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔سہ کالمی عنوان :- خلیفہ مسیح نے ہیگس بو کی پہاڑی پر پہلی مسجد کا افتتاح فرمایا " خبر کامنتن :۔سویڈن کی پہلی مسجد جیسے جماعت احمدیہ نے تعمیر کیا ہے۔اس کا افتتاح مجمعہ کے یہ وزعمل میں آیا۔تمام سلمانوں کے لئے یہ ایک خوشی کا موقع تھا۔تاہم اس میں ایک حد تک جنبیت پائی جاتی تھی۔کیونکہ عورتوں نے چہروں پر نقاب ڈالے ہوئے تھے۔وہ بھی نماز میں شریک تھیں۔لیکن ایک علیحدہ احاطہ میں۔پاکستانی مسلمانوں کے ایک سو خاندانوں نے دس لاکھ کرونے کی لاگت سے اسے تعمیر کیا ہے اور اس کے لئے انگلستان اور امریکہ میں رہنے والے احمدیوں) سے چندہ جمع کیا ہے۔ہیگس بو کی پہاڑی پر تعمیر شدہ مسجد کے مینارے (جو اذان دینے کے لئے بنائے جاتے ہیں ) محض علامتی مینارے ہیں۔علی الصبح سے سورج غروب ہونے کے دو گھنٹہ بعد تک دن ہیں له روزنامه الفضل ربوه ۰ار دسمبر تامیه جلب سالانه نمیرفت۔