تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 495
۴۹۵ ان کی سیلاب کی طرح امنڈی چلی آنے والی روشنیوں اخبار نویسوں اور ان کے کیمروں سے پھوٹ نکلنے والی فلیش لائٹوں کے باوجود مسجد کے گول کمرے میں ہر طرف وجد آفرین اور پرکیف خاموشی طاری تھی ، ڈھا کے ختم ہونے پر بھی یہ کیفیت دیر تک طاری رہی اور آہستہ آہستہ پہلی حالت واپس آئی۔افتتاح کا اصل آغاز خلیفہ صاحب کی اقتداء میں نماز جمعہ کی آدائیگی سے ہوا۔وہ تمام لوگ جو نماز میں شریک ہونے کے خواہش مند تھے ، انہیں نماز میں شریک ہونے کی عام اجازت تھی لیکن اُن کے لئے ضروری تھا کہ وہ جوتے اتار کر اور انہیں باہر ہی چھوڑ کر مسجد میں داخل ہوں مسجد کے مقدس کمرہ میں داخل ہونے کے لئے بس یہی ایک شرط تھی۔بہت سے لوگوں کے لئے جنہیں مسجد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔اس نوع کی عبادت میں حصہ لینا ایک دل موہ لینے والے عظیم تجربہ کی حیثیت رکھتا تھا ہے (۲) - اخبار KRISTELIG DAG BLAD نے جو کلیسائے ڈنمارک کا تر جمان ہے ، اپنی ۲۱ جولائی 2ء کی اشاعت میں مسجد کی تعمیر کو اسلام کی قوت و عظمت کا درخشندہ نشان قرار دیتے ہوئے لکھا :- " ڈنمارک میں مسجد ! آج سے نہیں نہیں سال قبل یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ڈنمارک میں بھی کوئی مسجد تعمیر ہوسکتی ہے۔اس وقت ایسا خیال مضحکہ خیز شمار ہوتا اور اس پر قبلے بلند کئے جاتے۔بہر حال یہ مانا پڑے گا کہ اسلام کی اس شاخ نے فی زمانہ تبلیغی جد وجہد کا حیران کن مظاہرہ کیا ہے اور اس میدان میں اس نے بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے ، بالخصوص افریقہ میں اس نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ کسی لحاظ سے کم نہیں ہے۔ہم آج کی خبر کا نوٹس لینا ضروری سمجھتے ہیں اور ہم تو ان لوگوں کی ہمت اور حوصلہ کی داد دینے کے لئے بھی تیار ہیں جس کے یل پر انہوں نے نسبتاً بہت تھوڑی مدت میں یہ کچھ کر دکھایا۔اس امر کا احساس ہمارے لئے چنداں ALBY BLADET ۲۷ جولائی ۱۹۶۶ء ، روزنامه افضل ربوه ۲۵ / اگست ۱۹۶۶ کے شاخ سے مراد جماعت احمدیہ ہے (ناقل)۔