تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 491 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 491

۴۹۱ ہی میں بھجوا دی تھی۔اس اینٹ کو برادرم عبد الرؤوف خانصاحب نے احرام کے کپڑے کے ایک ٹکڑے پر دجو آپ زمزم سے دُھلا ہوا تھا ) رکھا۔مبلغ انچارج مکرم عبد السلام میڈسن صاحب نوکر احمد بوستاد صاحب اور ذکر باکسن آرکٹیکٹ نے اس کو چاروں کونوں سے پکڑا اور صاحبزادہ صاحب نے یہ انیٹ عاجزانہ دوگاؤں کے ساتھ مسجد کے مجوزہ محراب میں کعبہ اللہ کی حکمت میں نصب کر دی اور پھر رقت آمیز دعا کرائی۔سنگ بنیاد رکھنے کے بعد معزز مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا اور فرداً فرداً تمام احباب سے ملاقات کی گئی۔عربوں کے ایک نمائندہ کی طرف سے حجامت کا شکریہ ادا کیا اور عربی میں سب احباب کو خوش آمدید کہا۔پھر ڈپٹی لارڈ میٹر نے جماعت کو خوش آمدید کہا اور اس علاقہ میں مسجد تعمیر ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔کھانے کی تیاری میں لجنہ کی سیکریٹری صاحبہ مستر مریم ملر اور مستر مبارکہ میڈیسن اور مسٹر جمال نے بہت محنت اٹھائی کھانے کے بعد مکرم مرا درم عبدالسلام صاحب میڈسن نے جمعہ کی اذان دی اور حضرت چو ہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے خطبہ جمعہ دیا جس میں مسجد کے مقام کی وضاحت کی اور فرمایا کہ موجودہ سائنسی دور میں رومانیت اور مادی ترقی صرف اس صورت میں ہم آہنگ ہو سکتی ہے کہ ہر انسان اپنے تئیں اعمال کے لئے خدا کے سامنے جواب دہ تصور کرے۔اکثر اخبارات نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی سنگ بنیاد کے وقت موجودگی اور پہلا مجمعہ پڑھانے کو بہت اہمیت دی اور مشن کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا سنگ بنیاد کا پروگرام ڈینش اور سوئیس ٹیلیویژن پر دکھایا گیا۔ڈینش پریس نے سنگ بنیاد کی بکثرت خبریں شائع کیں اور چارہ اخبارات نے اس پر اداریے بھی سپرد قلم کئے لیے مسجد نصرت جہاں کا افتتارخ اسکینڈے نیویا کی اس پیلی اور تاریخی مسجد کامبارک کی اس افتتاح حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی کے مقدس ہاتھوں سے اور جولائی شاید کو ہوا، حضور نے پہلے اس مسجد میں پہلی نماز جمعہ پڑھائی اور اس کے بعد ایک مختصر مگر پر معارف انگریزی خطاب فرمایا جس کے پہلے حصہ له الفضل ربوه ۱۶ جون لواء - ايضا الفضل ۲۲ ستمبر سا مضمون جناب عبد السلام میڈر کسی صاحب -