تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 482 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 482

۸۲ اسی مشن کی تبلیغی خدمات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :- ا دور خلافت ثانیه ( از جون ۱۹۵۶ نومبر ۱۹۶۵) تا ۲ دور خلافت ثالثه و از نومبر ۱۹۹۵ ۶ تا جون ۱۹۹۲ ) دور خلافت را به راز جون شده تا تا حال ) ۳ چوہدری عبد اللطیف صاحب اگر چہ مشن کھولنے کے مشن کا پہلا دور خلافت ثانیہ میں بعد واپس جرمنی تشریف لے گئے تا ہم حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں در نومبر ۱۹۶۷ء تک (جبکہ اس مشن کو مستقل حیثیت دے دی گئی ) آپ جرمنی میں ہی رہ کر اس کی نگرانی کے فرائض انجام دیتے رہے مگر براہ راست زرداری چونکہ کمال یوسف صاحب پر عائد ہوتی تھی اس لئے انہوں نے تبلیغ اسلام کے لئے ہر ممکن ذرائع کو بروئے کار لانے کا کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا محترم کمال یوسف صاحب کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لیا۔کھانا باہر سے کھانا پڑتا تھا کیونکہ اس ملک میں کھا PAYING GUEST بنانے کا رواج نہیں۔پریس سے رابطہ کیا اور لوگ آنے شروع ہو گئے۔مگر کسی مالک مکان نے مجھے اپنے گھر میں ٹکتے نہیں دیا۔زیادہ سے زیادہ دو تین ماہ کسی گھر میں رہ سکا۔اس کے بعد جواب مل جاتا۔اور اس طرح بیسیوں مکان بدلے۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ لوگ السلام کے مخالف تھے۔ملکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے پاس کثرت سے لوگ آتے تھے اور بار بار گھنٹی بجتی تھی جس پر اہل خانہ تنگ پڑھتے تھے اور بعض اوقات اتنے تنگ آتے کہ مجھے مکان چھوڑنے کے لئے کہہ دیتے بلے آپ کی تبلیغی مساعی کا پہلا پھل میٹر ایرکسن تھا ہو ، اگست 19ء کو داخل صورت پہلا پھل ہو گئے جن کا اسلامی نام سیف الاسلام محمود رکھا گیا۔چنانچہ وہ مشن کے لئے بہت مفید وجود ثابت ہوئے اور سویڈن کے اعزازی مبلغ بنائے گئے اور انہی کی ادارت میں فروری ۱۹۵۹ء میں ماہنامہ ایکٹو اسلام تین زبانوں میں جاری ہوائیے به روزنامه الفضل ربوه ۶ اکتوبر شاه مره به روز نامه الفضل رتبه 4 اکتوبر ١٩٧٩ ٣