تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 475 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 475

۴۷۵ کوئی روپیہ نہیں تھا۔ہمارے نانا جان میر نا صر نواب صاحب مرحوم کو اس کا علم ہوا تو اس وقت ہسپتال کے لئے چندہ جمع کر رہے تھے۔انہوں نے ڈھائی سو روپے کی پوٹلی لا کہ میرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ آپ اس روپیہ کو استعمال کریں جب آپ کے پاس روپیہ آئے گا تو وہ مجھے دے دیں۔چنانچہ سب سے پہلا اشتہار ہم نے انہیں کے روپیہ پہلا اشتہار ہم نے انہیں کے روپیہ سے شائع کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے وہ دن دکھایا کہ یا تو دوسو اور اڑھائی سو کے لئے ہمارے کام رکے ہوئے تھے یا اب ایک ایک شخص ہی بیس بیس ہزار دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے مشک پچھلے سال میں بیمار ہوا تو ڈاکٹروں نے مجھے ولایت جانے کا مشورہ دیا۔اس پر اللہ تعالے نے ہماری جماعت کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ اس نے ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اس غرض کے لئے جمع کر دیا۔عرض زمانے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے چلے جائیں گے ایک زمانہ میں لوگ اربوں ارب روپیہ دیں گے اور انہیں پتہ بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے مال میں سے کچھ کم ہوا ہے کیونکہ دینے والے کھرب پتی ہونگے۔اور جب وہ ہیں بائیں یا پچاس ارب روپیہ دیں گے تو انہیں پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ان کے خزانے میں کوئی کمی آئی ہے۔اس وقت انہیں یا دبھی نہیں رہے گا کہ کسی زمانہ میں پچاس روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لئے بھی دعائیں کرنی پڑتی تھیں۔تم تذکرہ پڑھو تو تمہیں اس میں یہ لکھا ہوا دکھائی دے گا کہ ایک دفعہ ہمیں پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل اللہ پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا تب ہم نے وضو کیا اور جنگل میں جاکر دعا کی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ دیکھو ئیں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔اس کے بعد ہم واپس آئے تو بازار سے گذرے اور ڈاک خانہ والوں سے پوچھا کہ کیا ہمارے نام کوئی منی آڈر آیا ہے یا نہیں، انہوں نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپے آپ کے نام بھجوا دیئے گئے ہیں چنانچہ اسی دن یا دوسرے دن وہ روپیہ ہمیں مل گیا۔(تذکرہ (۱۵۲) غرض ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کو پچاس روپوں کے لئے بھی فکر ہوتا تھا کہ وہ کہاں سے آئیں گے اور یا آب یہ حالت ہے کہ سندھ میں جو میری اور سلسلہ کی زمینیں ہیں اُن پر تین ہزار روپیہ ماہوار تنخواہوں کا ہی دینا پڑتا ہے گو یا کمجا تو