تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 473
۴۴۷۳ میں اس لئے نہیں روتی کہ آٹا خراب ہے بلکہ مجھے اس روٹی کو دیکھ کر رسول کریم صلی الہ علی رستم کان مانہ یاد آگیا ہے ہم اس زمانہ میں دانوں کو پتھروں سے کچل کر دلیہ سا بنا لیتی تھی اور اس کی روٹیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا کرتی تھیں۔آخری عمر میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضعیف ہو گئے تو آپ کے لئے روٹی چبانا بڑا مشکل ہو گیا تھا۔پس مجھے اس روٹی کو دیکھ کہ مونا آگیا اور مجھے خیال آیا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہ چکیاں ہوتیں تو میں آپ کو اس آٹے کی روٹی پکا کر کھلاتی ہمارا بھی یہی حال ہے۔اب تو ہمارا اصدر انجمن احمدیہ کا بیٹ چودہ پندرہ لاکھ کا ہے۔اور تحریک جدید کا بجٹ بھی بارہ تیرہ لاکھ کا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں یہ کیفیت تھی کہ کئی مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام نے یہ لکھا ہے کہ اب تو ہم پر اتنا بوجھ ہے کہ پندرہ پندرہ سو روپیہ ایک مہینے کا خرچ ہے۔گویا اس زمانہ میں اٹھارہ ہزار روپیہ کا سالانہ خرچ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام اسے بڑا بوجھ قرار دیتے تھے لیکن اس زمانہ میں بعض ایسے احمدی نہیں کہ اُن میں سے ایک ایک اس بوجھ کو آسانی سے اٹھا سکتا ہے۔اس وقت بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ لنگر میں آٹا نہیں ہوتا تھا اور منتظمین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں روپیہ کے لئے درخواست کرنی پڑتی تھی۔شہ میں جو زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علی الصلواه والسلام کچھ عرصہ کے لئے باغ میں تشریف لے گئے تو مجھے خوب یاد ہے ایک دن آپ باہر سے آئے تو اللہ تعالی کی بڑی حمد و ثنا کر رہے تھے اس وقت آپ نے حضرت اماں جان کو بلایا اور فرمایا بیٹھڑی کے لو اور دیکھو اس میں کتنی رقم ہے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کمرہ سے باہر نکل کر بتایا کہ اس کپڑے میں چار سو یا پانچ سو کی رقم ہے۔آپ نے فرمایا آج ہی لنگر والے آٹے کے لئے روپیہ مانگ رہے تھے اور میرے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا اور میں حیران تھا کہ اس کا کیا انتظام ہوگا۔اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک غریب آدمی جس نے میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے آیا اور اس نے یہ گٹھڑی مجھے دے دی۔میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے ہی ہوں گے لیکن اب معلوم ہوا کہ روپے تھے اس پر آپ دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے کہ اس نے کیسا فضل نازل فرمایا ہے۔بے شک ہماری نگاہ میں چار سو روپیہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا لیکن اس وقت ہم ان