تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 469
حضور نے مزید فرمایا :- میں نے پچھلے دنوں تحریک جدید کے بیرونی مشنوں کے متعلق ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں میں نے ذکر کیا تھا کہ تحریک جدید کے پاس بیرونی مشنوں کے لئے اتنا کم روپیہ رہ گیا ہے کہ دیقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ فوری ضروریات کے پیش نظر آپ یہ دونوں مکان مع ساتھ والی زمین کے اللہ تعالیٰ کی خاطر احمد یہ مشن کو ہبہ کردیں کیونکہ ان کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔یہیں قربان جاؤں اس پیارے بزرگ بھائی کے وہ کسی تردد اور عذر کے بغیر فی الفور سر تسلیم تم کرتے ہوئے اپنے وہ دونوں مکان صبر کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور کہنے لگے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے بالکل درست ہے۔لائیں کاغذ اور قلم اور مجھ سے ابھی ابھی لکھوائیں۔چنانچہ اسی وقت ہم مشن کے دفتر میں پہنچے اور میں نے لوکل قانون کے مطابق انگریزی میں معاہدے کا ڈرافٹ تیار کر کے اس کی تین نقول کیں اور بطور گواہ جماعت کے دوسرے سر کردہ ممبران کو بلا کہ ان کے سامنے الحارج علی رو جوریہ صاحب سے دستخط کروائے۔چنانچہ اس کے بعد سے شہر کے وسط میں دونوں عمارتیں اور خالی زمین قانونی طور پر احمدی مشن سیرالیون کی ملکیت ہو گئیں۔اُن کی قیمت مع زمین اس وقت تین ہزار پونڈ سے کم نہ تھی۔ان میں سے ایک عمارت میں پریس قائم کیا گیا اور دوسری عمارت جماعت کی سنٹرل لائبریری اور پبلک ریڈنگ روم کے طور پر استعمال ہونے لگی جس کا افتتاح ملک کے سینکڑوں باشندوں کی موجودگی میں " و "کے ڈسٹرکٹ کمشنر صاحب نے کیا اور پھر پبلک کا ہر طبقہ اس لائبریری اور ریڈنگ روم ہے فائدہ اٹھانے لگا۔اس ریڈنگ روم می لوکل اخبارات کے علاوہ دنیا بھر سے ہر قسم کے کم وبیش نہیں روزا ہفتہ وار اور ماہوار اخبار اور رسالے وغیرہ با قاعدہ آیا کرتے تھے جن میں سے اکثر احد یہ لائبریری کے نام پر مفت آتے تھے۔یہاں اظہار تشکر کے طور پر ذکر کرنا بھی مناسب ہو گا کہ مجوزہ پریس کی مشینیں خریدنے کے لئے محترم الحاج علی رو بر ز صاحب نے اپنے دونوں مکانوں کے علاوہ اپنے اور اپنے خاندان کی طرف سے بطور چندہ پریس ۵۰۰ پونڈ نقد بھی ادا فرمایا فجزاہ اللہ تعالی۔پولیس کے لئے انگلستان سے آمدہ چار مشینیں سالہا سال تک مشن کی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ تجارتی لحاظ سے بھی سود مند و ثابت ہوئیں۔