تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 457 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 457

۴۵۷ نور ہسپتال رکھا جائے۔اور جہاں جہاں بھی غربا کے لئے مکان بنائے جائیں، ان کا نام ناصر آباد رکھا جائے۔پس یہ ایک محض جذباتی اور عقل سے عاری خیال ہے۔نوکر ہسپتال قادیان میں موجود ہے۔وہ اب بھی نور ہسپتال ہے۔اور جب کبھی خدا تعالے ہمیں قادیان دے گا تو ہم کوشش کریں گے کہ وہ ہمیشہ نوکر ہسپتال رہے۔ممکن ہے اس وقت کی مالی حالت کے لحاظ سے ایک نیا ہسپتال جو اس سے بیسیوں گئے بڑا ہو بنائیں اور اس کا کوئی اور نام رکھ دیں۔لیکن نور ہسپتال، نور ہسپتال ہی رہے گا۔اور نور مہسپتال ہے۔قادیان میں رہنے والے اب بھی جب خط لکھتے ہیں تو نوکر ہسپتال کا نام نور ہسپتال ہی لکھتے ہیں۔پس قادیان میں بننے والے ہسپتال کا نام نور ہسپتال رکھنے کی وجہ سے قیامت تک کے لئے احمدی اس بات پر مجبور نہیں کہ جہاں کہیں وہ کوئی ہسپتال بنائیں اس کا نام نور ہسپتال رکھیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نئے جہسپتال کے بنانے والوں نے اپنے اعلان میں بیو تونی کی ہے۔اور یہ لکھا ہے کہ اجازت دی جائے کہ نور ہسپتال کی بجائے اس کا نام فضل عمر ہسپتال رکھا جائے، حالانکہ یہ نیا ہسپتال ہے۔قادیان مالا نہیں۔لیکن ہسپتال کے منتظمین کی ہو تو فی کی وجہ سے جماعت کے تمام کے تمام افراد کو یہ حق له نہیں پہنچتا کہ وہ بھی ہو توں بن جائیں۔فقط والسلام مرزا محمود احمد د دوسرا مکتوب ) پیارے حضرت صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ حضور کا مضمون برائے نور ہسپتال ربوہ خاکسار نے پڑھا۔حضور والا ! جہاں تک ہسپتال کی مکانیت کا تعلق ہے قادیان والا ہسپتال نورہ ہسپتال ہی رہے گا۔اور قیامت تک اس کے نام کو کوئی مٹا نہیں سکتا اور دیوہ والا ہسپتال یقینا وہ ہسپتال نہیں جس کی بنیاد حضرت خلیفہ المسیح الاول نے رکھی۔مگر پیارے آقا جہاں تک تبرک کا تعلق ہے ہمیں یقینی طور پر ربوہ والے ہسپتال کا نام بھی نور ہسپتال ہی رکھنا چاہیے۔یہ تو ہ کی بیشتر عمارات کے نام بھی وہی رکھنے گئے ہیں جو ان کے نام قادیان میں تھے۔مثلاً تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بنیاد الفضل ۲۴ مئی ۱۹۵۶ء ص۔