تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 452 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 452

۴۵۲ (۵) " دورے تبھی مفید ہو سکتے ہیں۔جب حکومت کے افسروں کی طرح ان کا پروگرام بنایا جائے۔اور پہلے سے اُن کا وقت مقرر کر کے متعلقہ جماعت کو اطلاع دے دی جائے تاکہ وہ ارد گرد کے پچاس ساٹھ جماعتوں کے لوگوں کو وہاں بلائے۔اور پھر وہاں کا نفرنس کی جائے دور نہ جس قسم کے دورے سال کے دوران میں کئے گئے ہیں۔انہیں ہرگز دورہ نہیں کہا جا سکتا۔دورہ اس چیز کا نام ہے کہ کسی جماعت میں ارد گرد کے پچاس ساٹھ میل تک کے رہنے والے احمدیوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان سے جماعتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے اور پھر جو مشورہ طے پائے اس پر عمل کیا جائے پھر میں نے یہ ہدایت بھی دی تھی کہ ناظر صرف اپنے صیغہ ہی کا خیال نہ رکھے بلکہ جب دورہ پر جائے تو صدر انجمن احد یہ کے ہر ناظر سے ہدایات لے کر جائے اور جو دقتیں انہیں پیش ہوں۔اُن کو دُور کرے مثلاً اگر بعض جماعتوں میں جھگڑے طے نہ ہو رہے ہوں یا تعلیم کا اچھا انتظام نہ ہو تو چاہیے دورہ کرنے والے ناظر کا ان امور سے کوئی تعلق نہ ہو اس کا فرض ہے کہ وہ ان امور کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرہ ہے : ۷، ۸ ر ا پریل ۱۹۵۶ء کو پینگا ڈی علاقہ الابار احمدیہ کانفرنس کیلئے برقی پیغام ا ا ا ا اور میں ان کی ا د امن کانفرنس شمالی مالا آل کیرالہ احمدیہ منعقد ہوئی ہو نہایت درجہ کامیاب رہی۔اس کا نفرنس میں حضرت مصلح موعود کا برقی پیغام عبدالرحیم صاحب ( ابن مولانا عبداللہ صاحب مالا باری ) نے پڑھ کو سُنایا۔اصل پیغام انگریزی میں تھا جسے پڑھنے کے بعد انہوں نے اس کا ملیالم زبان میں بھی ترجمہ کیا۔حضور کے انگریزی پیغام کا ذیل میں اردو ترجمہ دیا جاتا ہے :- " مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ احمدیہ جماعت اکھلا کیرالہ (علاقہ مالا بار نے ایک کا نفرنس میں اجتماع کر کے برادران کو احمدیت کی تعلیم سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے مجھے اس بات سے بھی مسرت ہے کہ اس وقت حق و صداقت کے بیج بونے کے لئے جنوبی ہندوستان بہترین کھیت ثابت ہو رہا ہے۔میں اس بات سے بھی خوش ہوں کہ آپ لوگوں نے اپنی فرض شناسی کا ثبوت نے رپورٹ مجلس مشاورت ۹۵۶اد صفحه ۵۴۰۵۳ - که KERALA