تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 438 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 438

۳۳۸ دیوں کے کالج ، ہائی سکول اور پرائمری مدارس میں سینکڑوں مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔جن کا متقبل اعتقادی اعتبار سے خطر ناک ترین ہے۔ه - قادیانی شعبہ خدمت خلق (تقدام الاحمدیہ ) کی بوگس رپورٹوں اور سطحی قسم کے پروپیگنڈا کی صفت سے باخبر ہونے کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سینکڑوں مسلمانوں نے ان کے کام سے اثر قبول کیا۔۔حکومت میں ان کا اثر علی حالہ قائم اور موجود ہے۔ملازمتوں میں ان کی ترقی حسب سابق ہے۔-- تجارت میں اگر چہ ان کی وہ ہمہ گیر اسکیم جو ۱۹۵۵ء میں مرزا محمود احمد صاحب کے حسب ایما پنجاب کی منڈیوں پر چھا جانے کی عرض سے بنائی گئی تھی، ناکام رہی ہے۔لیکن یہ امر واقعہ ہے ان کا تجارتی رسوخ ترقی پذیر اور مالی حالت مستحکم ہے۔۔ربوہ بسرعت ایسا شہر بن رہا ہے جو تعلیم ، تجارت ، کارخانوں اور دوسرے مادی وسائل کے اعتبار سے پاکستان کا متوسط شہر ہو گا اور امتیازہ یہ کہ دنیا میں واحد ایسا شہر ہو گا جس میں کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کا منکر نہیں ہو گا۔۱۵۳ یو کے وسیع ترین فسادات کے بعد جن لوگوں کو یہ وہم لاحق ہو گیا ہے کہ قادیانیت ختم ہو گئی یا اس کی ترقی رک گئی۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ بلدیاتی اداروں میں ملکہ (بعض اطلاعات کی بناء پر مغربی پاکستان اسمبلی میں قادیانی ممبر منتخب کئے گئے ہیں۔۔پاکستان سے یا ہر دنیا کے کم وبیش تیس ممالک میں سے اکثر ایسے ملک ہیں جن کے قادیانی عقیدہ رکھنے دانوں نے صدر انجمن احمد یہ ربوہ " اور صدر انجین احمدیہ قادیان" کے نام لاکھوں کی جائیدادیں وقف کر رکھی ہیں۔(۲)۔" قادیانی باطل ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم کیوں قائم و موجود ہے اور خواہ چیونٹی کی رفتار سے چلے کیوں وسیع ہوتا جارہا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہفت روزہ " المنیر لائل پور ۱۳ار فروری ۱۹۵۶ بر صفحون -