تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 430 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 430

۴۳۰ جن ممالک میں اسلامی اثرہ پایا جاتا ہے ان میں ہمیں اخلاق ، تواضع اور انکسار نظر آتا ہے۔اور انہیں خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہوتی ہے اس طرح سکھوں میں میں نے دیکھا ہے کہ ان میں بھی خداقا کی محبت پائی جاتی ہے۔میں نے عام طور پر دیکھا ہے کہ سکھ ملنے آتے تھے تو وہ ہاتھ جوڑ کر رونے لگ جاتے تھے۔اور کہتے تھے کہ دعا کریں ہمیں خدا مل جائے۔اسی طرح ہندؤوں میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی تڑپ پائی جاتی ہے۔بدقسمتی ہماری ہے کہ ہم نے ان میں تبلیغ بند کر دی ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمت کو تالے لگا دیتے ہیں۔اگر ہم انہیں تبلیغ کہیں تو وہ ضرور اثر قبول کر لیں مجھے ایک دعوت کے موقع پر کراچی کے ایک انڈین ہائی کشتر طے انہوں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ مجھے اسلام کی کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق ہے اور آپ کا لٹریچر بھی نہیں نے پڑھا ہے۔اس طرح تصوف کی طرف مجھے رکنیت ہے۔اور فارسی اور عربی کی قابلیت جس قدر میں پیدا کر سکا ہوں اس کے مطابق تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔عرض بڑے بڑے ہندؤوں میں بھی خدا تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے مدراس کے مشہور کانگرسی لیڈر شری را جگو پال اچاریہ کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ان میں بھی خدا تعالے کا خوف پایا جاتا ہے اور ان کا دل چاہتا ہے کہ ہندوستان میں عدل و انصاف قائم رہے اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن ہم ان لوگوں تک اسلام کی تعلیم مناسب طریق سے نہیں پہنچاتے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حکومت افغانستان نے ہمارے تیره احمدی کو چھوڑ دیا جو دوست شہید کر دیئے گئے ہیں اُن کی شہادت میں بھی گورنمنٹ کو کوئی دخل نہیں لوگ انہیں زبر دستی قید خانہ سے نکال کر لے گئے اور شہید کر دیا۔بہر حال دوست دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک میں احمدیوں کے لئے امن کی صورت پیدا کر دے اور جن لوگوں نے وحشیانہ نمونہ دکھایا ہے انہیں ہدایت دے آخر وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔اور خدا تعالے چاہیے تو وہ انہیں ہدایت دے سکتا ہے۔ه روزنامه الفضل ربوه ۱۴ جون ۱۹۵۶ صفحه ۲۰ تا ۲