تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 429
۴۲۹ کی لیکن ہجوم نے حملہ کر کے انہیں باہر نکال لیا۔اور گولی مار کر شہید کر دیا ، وہاں مشخص کے پاس مہتھیار ہوتے ہیں اور جب لوگ جوش میں آجاتے ہیں تو حاکم بھی ڈر جاتے ہیں۔بہر حال میرا تجربہ یہی ہے کہ جن ممالک میں اسلامی اثر پایا جاتا ہے وہاں کے رہنے والوں میں زیادہ۔۔” اچھے اخلاق پائے جاتے ہیں۔ان میں زیادہ تواضع ہوتی ہے۔اور ان میں زیادہ انکار پایا جاتا ہے لیکن جن لوگوں پر اسلامی اثر نہیں یا وہ غیر قوموں کے ساتھ رہ رہ کر اپنی اسلامی روایات کو بھول گئے ہیں۔ان میں آپ اسلام والی باتیں نہیں پائی جاتیں بلک ان میں عزور زیادہ پایا جاتا ہے۔ورنہ اسلام کی برکت سے اسلامی ممالک میں بھی اگر چہ ہماری جماعت کی مخالفت کی جاتی ہے مگر تعلقات کے بارہ میں ان کی حالت دوسروں کی نسبت بہت زیادہ اچھی ہے۔ابھی پچھلے دنوں مجھے ایران کے ایک مذہبی لیڈر کا خط آیا جس میں اُس نے لکھا کہ آئیں ہم مل کر اسلام کی خدمت کریں۔میں نے اسے پہنی لکھا ہے کہ ہم تو اس کے لئے تیار ہیں مگر تم خود غور کر لو۔کہیں بعد میں لوگوں کی مخالفت پر پیچھے نہ ہٹ جانا۔ہمارے ملک میں تو لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ جب مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ انہیں اپنے جلسے منعقد کرنے کے لئے بھی رویہ نہیں ملتا تھا اور ہمیشہ میں انہیں مدد دیا کرتا تھا لیکن اب یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہمارا مسلم لیگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔مجھے لاہور میں ایک دفعہ لکھنو کے ایک وکیل ہے۔انہوں نے کہا کہ میں قریباً نو سال موں نا محمد علی صاحب کا سیکرٹری رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ جب کبھی مسلم لیگ کا جلسہ ہوتا تھا آپ کو اس میں بلایا جاتا تھا۔اور آپ سے مشورہ لیا جاتا تھا۔میں نے کہا دوسرے مسلمان تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔وہ کہنے لگے کہ کوئی شخص جو حالات سے واقف ہو ایسا نہیں کہ سکتا۔میں خود مسلم لیگ کے ملبوں میں شریک ہوتا رہا ہوں اللہ مجھے خوب یاد ہے کہ آپ کو ان جلسوں میں بلایا جاتا تھا اور جب روپیہ کی وجہ سے جلسہ نہ ہو سکتا تھا تو آپ سے مالی امداد لی جاتی تھی۔ہم لوگ جو ابھی تک زندہ موجود ہیں اس بات کے گواہ ہیں۔نہیں نے کہا کمرہ میں بیٹھ کر آپ کے گواہی دینے سے کیا بنتا ہے۔اگر آپ میں حجرات ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ حق بات کہہ رہے ہیں تو اخباروں میں بھی اپنا بیان شائع کر دائیں ، پس حقیقت یہی ہے کہ