تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 428
۴۲۸ ہے۔اب بھی یہ خبر ملی ہے کہ تیرہ احمدی جو گرفتار کئے گئے تھے، حکومت نے انہیں رہا کر دیا ہے۔یہ چیز بتاتی ہے کہ چاہے مسلمانوں میں کتنی خرابیاں ہوں۔اسلامی تعلیم کا ان پر اس قدر اثر ضرورہ ہے کہ انہیں نیکی کی طرف مائل کر دیتا ہے۔نہیں نے دیکھا ہے ہم خوشی اور افسوس کے مواقع پر حکومتوں کو تاریں دیتے ہیں تو غیر احمدی اسلامی حکومتیں ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ہماری تاروں اور پیغامات کی پرواہ بھی نہیں کرتیں لیکن اسلامی حکومتیں ان کی قدر کرتی ہیں۔مجھے یاد ہے ابن سعود کو ایک دفعہ کسی موقع پر تار دی گئی تو انہوں نے فوراً اپنے نام سے جماعت کا شکر یہ ادا کیا۔پھر ایک دفعہ اردن کے شاہ عبداللہ کو میں نے خط لکھا تو انہوں نے اس کے جواب میں اپنے دستخطوں سے ایک مفصل خط بھجوایا۔شاہ ایران کو ایک دفعہ ہمدردی کی تار دی تو انہوں نے حسین اعلیٰ کے ذریعہ جو اس وقت وزیرہ درہ بار تھے شکریہ کی تار بھیجی۔عرض میں نے دیکھا ہے کہ اسلامی حکومتوں میں بہت سے اسلامی اخلاق ابھی باقی ہیں مبثل مصر میں ہماری جماعت کے امیر فوت ہوئے تو خود جنرل نجیب اور کرنل نا صرنے ہمدردی کی تاریں ان کے خاندان کو دیں بلکہ ان میں سے ایک نے دو تاریں دیں۔ایک تارہ ان کے اپنے خاندان کے رئیس ہونے کی وجہ سے اور ایک تاران کے جماعت کے امیر ہونے کی حیثیت سے لیکن یہ باتیں ان علاقوں میں نہیں پائی جاتیں جو ہندو اثر کے نیچے ہیں مثلاً یہی دیکھ لو جب میں لاہور جاتا ہوں تو وہاں بڑی جماعت ہے اور اسمبلی کے ۲۵ - ۳۰ ممبر ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے ووٹوں سے مبر بنے ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ وہ ہندو اثر کے نیچے رہے ہیں اس لئے وہ ملنے سے گھبراتے ہیں۔لیکن جب میں پشاور گیا تو اس وقت جو پارٹی بھی مجھے دی گئی اس میں صوبائی وزیر اعظم خان عبدالقیوم خانصاحب اور دو تین اور وزیر اور جوڈیشیل کورٹ کے حج بھی شریک ہوئے۔اس کے مقابلہ میں لاہور میں بعض چھوٹے چھوٹے ریکس بھی ہماری پارٹیوں میں آنے سے گھیراتے ہیں حالانکہ ان پہ ہمارے احسانات بھی ہوتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ لاہور کا علاقہ ہندو اثر کے نیچے رہا ہے اور پشاور اسلامی اثر کے نیچے ہے۔اس لئے وہاں ابھی تک اسلام کا اثر پایا جاتا ہے۔افغانستان میں جو تیرہ احمدیوں کو رہا کیا گیا ہے اس کو بھی اسلام کے اللہ کا ہی نتیجہ سمجھتا ہوں۔یکہ داؤد جان صاحب کو بھی جو شہید کر دیئے گئے ہیں۔علاقہ کے گورنر نے بچانے کی پوری کوشش