تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 414
۴۱۴۔۔نیکی اور تقویٰ کی بنیاد رکھتا ہے۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس نے بہیمیت اور بداخلاقی کی بناء پر ان تعلقات کو قائم کیا ہے۔بہت بڑی نادانی اور حماقت ہے دنیا میں جتنے اولیاء اللہ گذرے ہیں انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے جتنے موجد اور سائنسدان گذرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔مثلا نیوٹن کو ہی لے لو۔اگر اس کے ماں باپ آپس میں نہ ملتے تو نیوٹن کسی طرح پیدا ہوتا۔پھر جب ان کے تعلقات کے نتیجہ میں نیوٹن جیسا انسان پیدا ہو گیا تو ان تعلقات کی بناء ہمیت پر کسی طرح ہوئی۔اسی طرح دنیا میں جتنے بڑے بڑے جرنیل گندے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔نپولین کو لے لو بیٹلر کو لے لو۔اگر ان کے ماں باپ بھی یہی کہتے کہ ہم ان تعلقات کو اختیار نہیں کرسکتے کیونکہ ان کی بنیاد بہیمیت پر ہے تو نپولین اور میٹر کہاں سے پیدا ہوتے۔اس طرح جیتنے بڑے بڑے ائمہ گذرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام شافعی به حضرت امام مالک یا حضرت امام احمد بن حنبل اور صوفیاء میں سے سید عبد القادر صاحب جیلانی ، شہاب الدین صاحب سہروردی - بہاء الدین صاحب نقشبندی معین الدین صاحب چشتی - محی الدین صاحب ابن عربي۔حضرت جنید بغدادی۔ان تمام بزرگوں کے ماں باپ بھی اگر یہی خیال کر لیتے تو یہ پاک لوگ جنہوں نے دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کیا ہے کسی طرح ظاہر ہوتے۔در حقیقت تمام مدار نیت پر ہوتا ہے۔اگر ہمیت کی نیت سے کوئی شخص ان تعلقات کو قائم کرتا ہے تو وہ انسانیت کی توہین کرتا ہے اور اگر اخلاق اور تقوی اللہ پر بنیاد رکھتا ہے تو وہ اخلاق اور تقویٰ اللہ کو قائم کرنے والا ہوتا ہے : ه روزنامه الفضل ربیوه یکم اپریل ۱۹۵۶ به صفحه علا -