تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 410
ام سے کہو کہ اے وہ لوگو جنہوں نے صدہابیہ کے موقع پر معیت رضوان کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۃ بقرہ کے زمانہ کے مسلمان ہو، خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلاتا ہے حضرت عباس نے جب یہ آواز دی تو وہ صحابی کہتے ہیں کہ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا ہم مرچکے ہیں قیامت کا دن آگیا ہے اور اسرافیل بگل بجا کہ ہمیں بگا رہا ہے تب ہم میں سے جو اپنی سواریاں موڑ سکے انہوں نے اپنی سواریاں موڑ لیں اور جو سواریاں موڑ نہ سکے انہوں نے تلواروں سے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کی گردنیں کاٹ دیں۔اور خود دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی الہ علیہ ولی کی طرف یہ کہتے ہوئے میں پڑے کہ لبیک یا رسول اللہ لبیک یارسول اللہ سے رسول اللہ ہم مار ہیں۔اس بحول اللہ ہم حاضر ہیں اور چند منٹ میں ہزاروں کا لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گیا۔دیکھو صحابہ میں کس قدر جوش اور ایمان پایا جاتا تھا کہ انہوں نے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی اس آواز پر کہ خدا تعالی کارسول تمہیں جاتا ہے۔اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم اسلام کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔پس جن لوگوں کی قسمت میں دین کی خدمت کرنا ہوتا ہے وہ خود بخود اس کے لئے آگے آجاتے ہیں لیکن جن لوگوں کی قیمت میں نیکی نہیں انہیں نہ میرے خطبات کام دے سکتے ہیں نہ دوسروں کی مثالیں انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں انہیں دین کی خدمت کے لئے آگے لا سکتی ہیں اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں انہیں اس طرف کوئی توجہ دلا سکتی ہیں وہ ازلی محروم ہیں۔اِن کو برکت کون دے۔برکت اسی کو ملے گی جس کی قسمت میں وہ پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ مرزا غالب کو آم بہت پسند بھتے۔ایک دن وہ بادشاہ کو ملنے گئے وہ انہیں اپنے باغ میں لے گیا۔پرانے زمانے میں درباریوں کو یہ ادب سکھایا جاتا تھا کہ وہ ہمیشہ بادشاہ کی طرف اپنا منہ رکھا کریں لیکن مرزا غالب بار بارہ آموں کی طرف دیکھتے بادشاہ نے کہا مرزا غالب یہ کیا بات ہے کہ تم بار بار ادھر کیوں دیکھتے ہوں انہوں نے کہا حضور میں نے سُنا ہوا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی بندے کو اس دنیا میں بھیجتا ہے تو رزق پر اس کا نام لکھ دیتا ہے۔نہیں دیکھ رہا ہوں شائد کسی ہم پر میرا یا میرے باپ دادا کا بھی نام لکھا ہوا ہو۔بادشاہ نہیں پڑا اور اس نے اپنے تو کر کو حکم دیا کہ وہ مرزا غالب کے گھر