تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 411
االم ام دے آئے۔پس جس کی قسمت میں خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت لکھی ہے اس کے رستہ میں خواہ دس میل تک زہریلے سانپ ہوں وہ انہیں کچلتا ہوا آگے آجائے گا اور خواہ ننگی تلواریں کھڑی ہوں اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر وہ آگے بڑھا تو اس کی گردن کٹ جائے گی۔تب بھی وہ دین کی خدمت کے لئے آجائے گا بلکہ دین کی خدمت تو بڑی چیز ہے ہم دیکھتے ہیں کہ باطل کے ساتھ محبت رکھنے والے بھی کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کرتے حضرت مسیح موعود علی صلوة واسلام کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک مراثی کا لڑکا سیل کی مرض میں مبتلا ہو گیا۔اس کی ماں اسے علاج کے ئے قادیان کائی وہ لڑکا عیسائی ہو چکا تھا اور اس کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ اسلام قبول کرے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے درخواست کی کہ آپ صرف اس کا علاج کریں بلکہ اسے تبلیغ بھی کریں تاکہ یہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔آخر ایک رات بیماری کی حالت میں ہی وہ بالہ کی طرف بھاگ نکلا تاکہ وہاں عیسائیوں کے مرکز میں چلا جائے۔اس کی ماں کی آنکھ کھل گئی۔اور اس نے چار پائی خالی دیکھی تو وہ رات کے اندھیرے میں اکیلی بٹالہ کی طرف دوڑ پڑی اور کئی میل کے فاصلہ سے اسے پکڑ کر لے آئی۔پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ روتی ہوئی کہنے لگی حضور میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے اگر یہ مرجائے تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں لیکن میری صرف اتنی خواہش ہے جس طرح بھی ہو یہ مرنے سے پہلے دوبارہ کلمہ پڑھ لے الہ رانی نے اس عورت کے اخلاص کو دیکھ کر یہ فضل کیا کہ دو تین دن کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا اور پھر وہ فوت ہو گیا۔پس اگر باطل کے ساتھ محبت کرنے والے بھی بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے ہیں تو دین کے ساتھ سچی محبت رکھنے والے کسی قسم کی قربانی سے کسی طرح دریغ کر سکتے ہیں۔بہر حال دوستوں نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے بعض بہت اچھی ہیں ملا یہ کہ واقفین کو کوئ نہ کوئی پیشہ سکھانا چاہیے اور پھرے کہ جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ واقفین کا اعزازہ کریں جیسا کہ میں نے بتایا ہے خود واقفین کے اندر انتظامی قالبیت ہونی چاہئیے۔اگر ان میں انتظامی قاطبیت ہوئی تو انہیں مرکز میں ذمہ داری کے عہدے مل سکیں گے۔انگریزی دانوں سے ہماری کوئی دوستی نہیں اور نہ عربی دانوں سے کوئی دشمنی ہے اگر واقفین انتظامی قاطعیت پیدا کرلیں تو در حقیقت مرکز کے سارے اہم عہدے انہی کے لئے ہیں