تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 409 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 409

وم اس خطبہ پر بعض احمدیوں کی طرف سے تجاویز موصول ہوئیں۔حضور نے اور مارچ ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں ان تجاویز کا ذکر کر کے ہدایت فرمائی کہ والدین خصوصاً عورتیں بچپن ہی سے اولاد کی صحیح تربیت کریں۔جماعت میں واقفین کا اعزازہ قائم کیا جائے اور واقفین انتظامی قابلیت پیدا کرنے کے علاوہ کوئی ایک فن بھی سیکھیں۔اس سلسلہ میں حضور نے مزید ارشاد فرمایا :- اصل بات یہ ہے کہ جس شخص کی قسمت ہیں یہ لکھا ہو کہ وہ دین کی خدمت کرے گا اسے اس کی توفیق مل جاتی ہے اور اگر اس خدمت میں اس کی جان بھی چلی جائے تو وہ اسس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسلامی تاریخ سے علوم ہوتاہے کہ جنگ حسین کے موقع پر جب ہزاروں تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی تو مسلمانوں کی سواریاں برک کو میدان جنگ میں سے بھاگ پڑیں۔در حقیقت اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب اسلامی لشکر روانہ ہوا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ چونکہ ہم حدیث العہد ہیں اور اس سے قبل کسی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے۔اس نئے اس موقعہ پر نہیں بھی قربانی پیش کرنے کی اجازت دے دی جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی اور دو ہزار نو مسلم بھی اسلامی لشکر کے ساتھ چل پڑے یہ لوگ کفار کے اچانک اور دو طرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے صحابہ گو اس قسم کی تکلیف اٹھانے کے عادی تھے۔مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ ان کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اُونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صرف بارہ صحابی رہ گئے اور تین اطراف سے قریباً چار ہزارہ تیر انداز تیر برسا رہے تھے۔ایک صحابی عنہ کہتے ہیں کہ ہماری سواریاں اس قدر ڈر گئی تھیں کہ ہمارے ہاتھ باگیں موڑتے موڑتے زخمی ہوگئے۔لیکن اونٹ اور گھوڑے واپس مڑتے کا نام نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ اونٹ یا گھوڑے کا سر اس کی پیٹھ کو لگ جاتا۔مگر جب ہم اسے پیچھے کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے مڑنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگ پڑتا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو بلایا اور اُن سے فرمایا عباس بلند آوازہ