تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 345
۳۴۵ کی مانند ہے۔ہم ہر ہر قدم پر آپ کی حیات طیبہ سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زندگی کے اُس حصہ کا ذکرہ کیا جبکہ آپ کے قلیل تعداد ساتھیوں كو كثر التعداد مخالفین کی طرف سے شدید مخالفت اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا اور مشکلات و مصائب کے ان ایام میں آپ نے صبر کا جو مبینظیر نمونہ دکھایا، اس پر روشنی ڈالی۔مولوی رشید نے حالترین کو آگاہ کیا کہ وہ وقت بہت قریب ہے جب اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا۔انہوں نے اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کی پرزور انداز میں تلقین فرمائی۔اس موقع پر جناب گورچرن سنگھ گل (جو لائبیریا میں قرم کے مالک ہیں) نے بھی تقریر کی۔آپ نے جماعت احمدیہ کو دنیا بھر میں ایک کامیاب اور قابل تعریف مذہبی تحریک قرار دیا۔مسٹریگل نے جو مذہبی علوم کی گہری واقفیت رکھتے ہیں۔اور جن کا تعلق مہر دستان کے سکھ مذہب سے ہے ، مزید کہا کہ اسلام انسانیت میں اصلاحی انقلاب لانے کا سرچشمہ ثابت ہوا ہے۔اور اس نے ہماری نہ ندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔GITCO ۱۲ ۱۹۷۵ء کے وسط میں لبنان کے دو عالم الشیخ مداہ نہیں دو لبنانی علماء کو تبلیغ الميديا الحرة التعليم والاسعاف بیروت اور شور قاری اور واعظ الشيخ لطفی عامر افریقہ کا دورہ کرتے ہوئے لائبیریا پہنچے۔ان کا مشن مسلمانوں کو وعظ و تلقین کر نا تھا۔احمدیہ مشن لائبیریا کے انچار ج جناب چوہدری رشید الدین صاحب کی دعوت پر ۲۱ جون کو پانچ بجے شام وہ ایک سرکردہ اور با اثر لبنانی ڈاکٹر جناب عارف قصاص کی معیت میں تشریف لائے۔مبلغ لائبیریا نے اس موقع پر انہیں جماعت احمدیہ کے عقائد اور تعلیمی و تبلیغی خدمات سے متعارف کرایا نیز قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ اور دوسرا لٹریچر پیش کیا جسے دیکھ کر دہ کہنے لگے یہی اصل کام ہے جو سب مسلمانوں کو کرنا چاہیے۔اس پہلی تقریب کے بعد بھی وہ مبلغ لائبیریا سے ملتے رہے اور تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ہر جمعہ کو مبلغ لائبیریا یہاں ٹی وی پر تقریر کرتے تھے یہ پروگرام بھی وہ پچسپی سے دیکھتے رہے، نیز احمدیہ مشن کے تبلیغی کاموں کے بارہ میں معلومات حاصل کیں۔بعض ایسے لوگوں سے بھی اُن کی ملاقات ہوئی جو مکرم چو ہدری رشید الدین صاحب کی تبلیغ کے ذریعہ عیسائیت کے چنگل سے نکل کر آنحضرت صلی شد