تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 315
۳۱۵ مکرم سید عبدالرحمن صاحب کلیولینڈ سے اپنے بھتیجے طاہر احمد صاحب کے ہمراہ شامل ہوئے اور انتظامات میں ہر قسم کی امداد کی۔کنونشن کا افتتاح مولوی نور الحق صاحب انور مبلغ انچارج امریکہ نے فرمایا۔کنونشن سے مبلغین کے علاوہ مختلف جماعتوں کے پریذیڈنٹوں نے بھی موثر خطاب کیا۔اس موقع پر عہدیداروں کے انتخاب کے علاوہ خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے اجلاس بھی ہوئے۔کنونشن میں مکرم سید جواد علی صاحب بی اے سیکرٹری امریکہ مشن نے امریکہ مشن کی آمد و خرچ کے بجٹ اور اس میں اضافہ کرنے کی تجاویز پیش کرنے سے پہلے سید نا حضرت مصلح موعود کا درج ذیل روح پر در پیغام پڑھ کر سنایا جس کو سنکر حاضرین کے دل فرحت وسترت سے بھر گئے حضور کا یہ پیغام سوئٹزر لینڈ سے مکرم چو ہدری خلیل احمد صاحب ناصرنے بھجوایا تھا۔" کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں کو سید نا حضرت امیر المومنین ایدو له کا سلام پہنچا دیں نیز انہیں حضور ایدہ اللہ کی اس خواہش کی بھی یاد دہانی کرائیں کہ انہیں ہر سال اپنی تعداد کو دوگنا کرنے کا عزم کرنا چاہئیے۔خدا تعالیٰ آپ لوگوں کی مساعی میں برکت ڈالے اور آپ کے کام میں آپ کی راہنمائی فرمائے شید شکاگو ٹریبیون (۲۳ ستمبر ۱۹۵۵ء میں مکرم عبدالشکور صاحب کنزے کا انٹرویو شائع ہوا جس میں جماعت احمدیہ کے قیام ، اعراض و مقاصد، احمدیوں کی تعداد کا ذکر تھا۔اس سال جو سعید روحیں داخل احمدیت ہوئیں۔ان میں کینیڈا کے ایک نوجوان بھی شامل تھے جن کا اسلامی نام ناصر احمد رکھا گیا۔آپ کینیڈا میں پہلے مقامی مسلمان ہیں سیسے کینیڈا کے ایک ہفت روزہ اخبار " دی سٹار THE STAR نے مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ اور جماعت احمدیہ کی تبلیغی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔رومن کیتھولک چرچ کے بعض پیرووں نے اب ایک ہندوستانی مذہب اسلام قبول کر لیا ہے۔ہندو تو پہلے ہی تبدیلی مذہب کے قائل نہیں۔البتہ مسلمان اس سلسلہ میں کوشش کر رہے ہیں۔لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو" الفضل " ۲۲ تا ۲۴ ر نوسر / ۲۹۵۵ و - له الفضل ۲۱/۲۰ / دسمبر شاء و خلاصه ر پورٹ مکریم سید جواد علی صاحب )۔