تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 305 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 305

۳۰۵ ہاکی ، فٹ بال، والی بال اور کبڈی کے بیچ ہوئے جن میں ربوہ کے اطفال اور خدام نے شرکت کی۔اس مبارک سفر کے مبارک قافلہ کی مکمل فہرست درج ذیل کی جاتی ہے :- (1) حضرت سیدہ ام ناصر صاحبه - (۲) حضرت سیده ام دسیم صاحبه۔(۳) حضرت سیده مریم صدیقہ صاحبه ، (۴) حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ - (۵) صاحبزادی امتہ الجمیل بیگم صاحبہ۔(۶) صاحبزادی امتہ المتین بیگم صاحبہ۔(۷) صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشير - (۸) صاحبزادی طبیبہ آمنہ بیگم صاحبہ المیہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (۹) - امتہ الباقی عائشہ صاحبہ نیت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب۔(۱۰) صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب۔(۱۱) صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب۔(۱۲) صاحبزادہ مرزا تعمیم احمد صاحب - (۱۳) صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب (۱۴) صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب (۱۵) حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب له (۱۶) سید داود احمد صاحی - (۱۷) صاحبزادی امته الباسط بیگم صاحبہ ( بیگم سید داؤد احمد صاحب) - (۱۸) صاحبزادی امتہ المصور صاحبہ (بنت سید داؤد احمد صاحب) - (۱۹) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحب (معالج خاص) (۲۰) چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی اے ایل ایل بی (پرائیویٹ سیکرٹری - (۲۱) ملک مبارک احمد صاحب (سکالر یعربی زبان )۔(۲۲) قریشی عبدالرشید صاحب روکیل التجارت تحریک جدید) - (۲۳) میاں محمد شریف صاحب اشرف بی اے (اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری ) (۲۴) بعبد اللطیف خانصاحب (کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری)۔(۲۵) کیپٹن محمد حسین صاحب حمد (افر حفاظت) (۲۶) میاں رحم دین صاحب باورچی۔خط کشیدہ نام اُن خوش نصیبوں کے ہیں جو حضور کی معیت میں ۲۵ ستمبر وار کی شب کو وابور توہ ہوئے۔باقی شرکائے سفر حضور کی ربوہ میں تشریف آوری سے قبل اس نمبر دارد و یا بعض دوسرے ایام میں پہلے ہی ربوہ پہنچ گئے تھے کے ہ آپ اس سفر میں حضور کے ہمراہ تھے مگر تعلیم کی غرض سے انگلستان میں ٹھہر گئے اور سید محمود احمد صاحب ناصر کے ہمراہ ہم راکتو بریشی او کو واپس تشریف لائے۔ہے آپ بھی مع اہل بیت اعلیٰ تعلیم کے حصول اور لندن میں دینی خدمات بجالانے کے بعد ۲۸ نومبر 19ء کو واپس ریوہ تشریف لائے۔سے مثلاً حضرت سیدہ ام دیم علامہ صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا صنیف احمد صاب، صاحبزاد مرزا رفیق احمد صاب۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۳۰ ستمبر ۹۵اء۔•