تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 297
۲۹۷ نیز درد مند دل کے ساتھ تحریر فرمایا :- " اگر سچ مچ علماء مذکور (مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی اور مولانا سید سلیمان صاحب ندوکی) نے ایسا جلسہ کیا تھا تو مجھے خدا کے سامنے سجدہ میں گھر کر رو رو کر دعا کرنی چاہئیے کہ وہ علماء مذکور کو اس غلط طرز عمل سے بچائے اور یا مجھکو اس دنیا سے جلدی اٹھائے تا کہ میں اپنی مسلمان قوم کی تباہی اور پاکستان کی تباہی نہ دیکھوں جو ایسے غلط کاموں سے ہونی ضروری ہے ؟ چنانچہ آپ کی دعا قبول ہوئی اور آپ اور جولائی ۹۵اء کو انتقال کر گئے۔آپ کی المناک رحلت پر برصغیر پاک و ہند کے پریس نے خصوصی نوٹ لکھے اور گہرے رنج والم کا اظہار کیا۔چنانچہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے ایڈیٹر بدر (قادیان) نے خاص طور پر لکھا کہ :- ہمیں یہ افسوس ہے کہ اس وقت جبکہ ایسے محب وطن صلح ذی وجاہت اور با اثر شخصیتوں کی نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ بھارت کو از حد ضرورت ہے آپ کے مفید وجود سے ہم محروم ہو گئے ہیں۔ملک صاحب نے اپنے اس نوٹ میں اپنی نجی ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا اور لکھا :۔۱۹۵۲ء میں آپ بواسیر کے باعث فریش تھے۔آپ نے فرمایا کہ میں کراچی وغیرہ سے ہو کر آیا ہوں احمدی احباب نے ربوہ لے جانے کے لئے بہت اصرار کیا۔لیکن بعض روکا ئیں تھیں۔اب نہ معلوم ہیں زندہ رہوں کہ نہ رہوں اس لئے بار بار افسوس ہوتا ہے کہ (حضرت) مرزا صاحب (امام جماعت احمدیہ) سے کیوں ملاقات نہ کر آیا ماہ میں۔۔۔۔۔۔جناب خواجہ صاحب سے پھر ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس صورتِ حالات سے سخت دُکھ ہوا ہے۔اور پاکستان سے عرس پر آنے والے معززین سے علیحدگی ہیں میں نے حالات دریافت کئے اور خواجہ ناظم الدین کو رجو اس وقت گورنر جنرل تھے، اور بعض دیگر سرکردہ لیڈروں کو پیغام بھیجے ہیں۔کوٹہ میں بہائیوں پر اتمام حجت وانا واعد صاحب اس سال موسم شما میں میں نے کے ابوالعطا تین ہفتے b لئے کوٹہ تشریف لے گئے۔عرصہ قیام میں مولانا صاحب نے لے "منادی جون ۱۵۶ء بحوالہ رسالہ چند معروضات ما از اصغر بھٹی صابی اسے علیگ ایل ایل بی ایڈووکیٹ سرگود یا ممبر پنجاب پراونشل مسلم لیگ کونسل مطبوعہ پاکستان پرنٹنگ ورکس ایبٹ آباد روڈ لاہور۔نگے اخیار بدرہ اگست ۵۵شهادت سه هفت روزه بدر قادیان ، اگست شهداء من