تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 296 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 296

۲۹۶ کالم لا میں بھی چھپ گئی۔خواجہ صاحب نے منشاء میں حضرت خلیفہ المسیح اول سے بھی اس قسم کی درخواست کی تھی جس پر حضور نے حضرت نظام الدین اولیاء کی شان و عظمت کے بارہ میں ایک ایمان افروز مکتوب لکھا ہے حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت خواجہ صاحب موصوف کو عمر بھر نہایت مخلصانہ تعلق رہا۔۱۹۳۷ء کی تحریک آزادی کشمیر میں آپ حضرت مصلح موعود کی قیادت میں جو بے لوث انتھک اور شاندار خدمتا بجالائے اُن کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد ششم حصہ دوم میں گزر چکی ہے۔حضرت مصلح موعود اپنے مشہور سفر حیدر آباد دکن سے واپسی پر دہلی تشریف لائے تو ۲۸ اکتو بری ۱۹۳ ء کو خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضور کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔خواجہ صاحب نے اس موقع پر حضور کی اقتداء میں نماز بھی ادا کی اور حضور کا ایک گروپ فوٹو مسجد نواب خان دوراں میں لیا گیا جس میں خواجہ صاحب کے علاوہ چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب اور دیگر عمائدین و معززین بھی تھے۔یہ یاد گار فوٹو شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صحاب نے اپنے اخبار " منادی" (مورخہ ۲۴ دسمبر ۹۳۷ء) میں سپر دو اشاعت کیا اور اُس کے نیچے ایک مفصل نوٹ دیا جس میں لکھا:۔میں اپنے تعلقات کی یادگار میں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے میرے تھے اور اُن کے فرزند در خلیفه حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ہیں۔اور مرزا صاحب نے اپنی خلافت کے پچیس سالہ ایام میں اسلام کی اور سلمانوں کی بڑی بڑی خدمات انجام دی ہیں اور سر محمد ظفر اللہ خان جیسے خادم آسلام اور مسلمین افراد تیار کئے ہیں۔اس لئے میں یہ تصویر اپنی جماعت اور ناظرین منادی کی معلومات کے لئے اور جو علی کی خوشی میں دل سے شریک ہونے کے لئے شائع کرتا ہوں۔حسن نظامی ہے۔خواجہ صاحب اتحاد بین المسلمین کے پُرجوش حامی اور علمبردار تھے اور آپ کو اُمت میں انتشار دو تشتت پر بہت دُکھ ہوتا تھا اسی جذبہ اتحاد اور روح وحدت کی بناء پر آپ نے شاید میں فرمایا کہ بر جو لوگ اس وقت مسلمانوں کے فرقوں اور خصوصاً قادیانیوں کے خلاف تقریریں کرتے پھرتے ہیں پاکستان کے دشمن اور بھارت کے ایجنٹ ہیں؟ - ه الحکم ۲۸ فروری شد و صفحه را کالم را تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۳۳ ۳۳ سے مفصل نوٹ تاریخ ایری جلد شتم صفحہ ۱۳ ، ۱۲۴ء میں ملاحظہ ہو۔سے اخبار " آزاد " لاہور ۲۸ جون ۱۹۵۰ء ص -